بات سے بات: مصباح اللغات اور مولانا عبد الحفیظ بلیاویؒ( ۱)

تحریر: عبد المتین منیری
Http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/

چند روز قبل علم وکتاب پر عربی اردو کتب لغت کے ضمن میں مصباح اللغات اور القاموس الوحید کا تذکرہ آیا تھا، اوراس پر تبصرےبھی کئی ایک آئے تھے، ان میں سے مصباح اللغات کے بارے میں بعض تبصروں کے تحت اللفظ میں مولانا بلیاویؒ کی کوششوں کی ناقدری کا ہمیں احساس ہوا، ناچیز کی رائے میں ہمیشہ ہر سچ بولنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔
کتب لغت اور دائرہ معارف اسلامیہ قسم کی کتابیں ایک فرد کے لکھنے کی نہیں ہوا کرتیں، ترقی یافتہ زبانوں میں یہ کتابیں ماہرین کی ایک ٹیم تیار کرتی ہے، آج سے تیس چالیس سال قبل جب کہ کمپوٹر عام نہیں ہوا تھا کتب لغت کی تیاری کے لئے کارڈ استعمال ہوتے تھے ،الفاظ ومعانی کی کانٹ چھانٹ انہیں میں ہوتی، لغت کا مسودہ انہیں ترتیب سے جوڑ کر تیار کیا جاتا، ان کو رکھنے کے لئے مستقل شیلف بنائے جاتے، چونکہ ہر لفظ کے لئے مستقل کارڈ مخصوص کرنے کی وجہ سے یہ کارڈ ہزاروں لاکھوں میں پہنچ جایا کرتے تھے، انہیں خریدنے اور رکھنے کی سہولت اس زمانے میں کسی مدرسے کے استاد کے بس سے باہر کی چیز تھی۔ویسے اس وقت کتابیں بھی کہاں دستیاب ہوتی تھیں؟، بڑے بڑے جید اساتذہ بہت سی کتابوں کے صرف نام ہی سن کر انہیں دیکھنے کی حسرت لے کر دنیا سےاٹھ جاتے تھے، مصباح اللغات آج سے پچھتر سال قبل ۱۹۵۰ء میں تیارہوئی تھی، اور القاموس الوحید، مصباح اللغات سے کوئی پینتیس (۳۵ ) سال بعد، مصباح اللغات اور مولانا زین العابدین سجاد میرٹھی کی بیان اللسان تقریبا ایک ہی زمانے میں آئی تھی، لیکن بیان اللسان، مصباح اللغات کی طرح طلبہ واساتذہ میں جگہ نہ بنا سکی،۔ مولانا بلیاویؒ نے یہ لغت بریلی کے ایک چھوٹے سے مدرسے مصباح العلوم میں تدریس کے دوران ترتیب دی تھی، جہاں انہیں مطلوبہ کتابیں اور سہولتیں میسر نہیں تھیں، تقسیم ہند کے دنوں میں مولانا بلیاویؒ دارالعلوم ندوہ العلماء سے منسلک ہوگئے تھے، آپ دارالعلوم دیوبند کے قدیم فارغین میں تھے، اور غالبا حضرت شیخ الہند کے شاگرد تھے ، آپ کے شاگردوں میں مولانا سید محمد واضح رشید ندویؒ، مولانا نذر الحفیظ ندوی، جیسے عربی زبان کے عظیم قلم کار نکلے ، ان لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ مولانا بلیاویؒ، جاہلیت اور قدیم عربی ادب پر بڑا عبور رکھتے تھے، قدیم شعرا کے ہزاروں اشعار آپ کے نوک زبان تھے۔ اس زمانے میں صرف المنجد ہی جدید ترین عربی زبان کی لغت تھی، المعجم الوسیط، مصباح اللغات کے دس سال بعد شائع ہوئی تھی، اور احمد رضا عاملی کی معجم متن اللغہ سات سال بعد، اب اگر آپ نے المنجد کو مرجع بنایا تو یہ ان کی مجبوری تھی، ان حالات میں یہ کوئی عیب کی بات بھی نہیں تھی،یہ بعید از قیاس ہے کہ المنجد کے عیسائی مصنف سے غلطیاں اور تحریفات سرزد ہوئی ہوں اور مصنف مصباح اللغات نے اس کی تصحیح نہ کریں، اس کی مثال میں آپ پنجاب یونیورسٹی کی شائع کردہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کو لے سکتے ہیں، یہ کتاب بنیادی طور پر بریل کی انسائیکلوپیڈیا اور اسلام کا ترجمہ ہے، لیکن اس میں اتنی کانٹ چھانٹ کی گئی ہے کہ یہ مستقل حوالہ کی کتاب بن گئی ہے۔مصباح اللغات عربی اردو لغت کا نقش اول ہے،مولانا کی رحلت کے طویل عرصہ بعد المنجد کے نام سے اس کے دو ایڈٹ شدہ ایڈیشن آئے ہیں، اس میں ان کے مدیران نے تصدیق کی ہے کہ مولانا نے المنجد کے کئی ایک الفاظ کو حذف کیا ہے، اور کئی ایک جگہ ترمیم کی ہے، لہذا ان ترمیم شدہ ایڈیشنوں کا نام مصباح اللغات کے بجائے (المنجد ) ہی رکھا گیا ہے۔اب اگر مصباح اللغات میں کچھ غلطیاں نکل آئی ہوں، یا کچھ کمی بیشی رہ گئی ہو، یا پھر مصنف نے ایک عیسائی کی کتاب کو مرجع بنانے کا اقرار کرنے میں جھجھک محسوس کی ہو تو یہ ایسے نقائص نہیں ہیں کہ ان کی بنیاد پر اس کتاب کے مقام ومرتبہ میں فرق آئے، اس لغت سے کئی نسلوں نے استفادہ کیا ہے، اور اس کی رونق آج بھی باقی ہے،جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کتاب کے ایڈیشن ترمیم واضافہ کے ساتھ کئی ایک مرتبین کی جانب سے اس کے اصلی نام یا المنجد کے نام سے سامنے آئے ہیں۔
رہی بات نقائص کی تو عربی زبان کی کونسی لغت ایسی ہے جسے نقائص اور اعتراضات سے پاک قرار دیاگیا ہو، خلیل احمد الفراہیدی کی پہلی لغت "العین "سے "المعجم الوسیط” تک جملہ کتب لغت پر ہونے والے تبصروں اور ان کے محققین کے دیباچوں سے اس کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے، دمشق اور قاہرہ میں قائم عربی زبان کی اکیڈمیوں کے مجلے "مجمع اللغۃ العربیۃ” کی فائلوں سے بھی پتہ چلتا ہے کہ کتنی کچھ ان پر تنقید کی گئی ہے، اردو کی بنیادی اور اہم کتب لغت کا بھی ماہرین زبان نے اسی طرح جائزہ لیا ہے، جس کا ایک نادر سلسلہ ہم نے علم وکتاب گروپ پر پوسٹ کرنا شروع کیا تھا،لیکن خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے اس سلسلے میں دڑاڑ آگئی۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ ۱۷۹۸ئ میں فرانسیسی فاتح نپولین بوناپرٹ نے جب شام ومصر پر حملہ کیا تھا،تو اس وقت تک لبنان کی حیثیت مستقل ملک کی نہیں تھی ، بلکہ یہ مملکت شام کا حصہ تھا، ۱۸۸۲ئ میں مصر برطانوی سامراج کےماتحت آیا، اور شام ولبنان پر فرانسیسوں کا قبضہ جاری رہا، ۱۹۲۰ئ میں فرانسیسوں نے لبنان کو ایک الگ ملک کی حیثیت دی، ان کی خواہش تھی لبنان ایک عیسائی ملک کی حیثیت سے دنیا کے جغرافیہ پر ابھرے، یہ حقیقت ہے کہ یہاں کے عیسائی عربی زبان بولتے تھے ، لیکن یہ ان کے لئے گھریلو انداز کی ٹوٹی پھوٹی بولی تھی ، فصاحت و بلاغت میں لبنانی عیسائیوں کا کوئی مقام نہیں تھا، لیکن مصر پر فرانسیسی قبضے کے بعد جیسا کہ سامراجی مزاج ہوا کرتا ہے کہ نو آبادیاں چلانے میں مقامی لوگوں پر اعتبار نہیں کیا جاتا،اور باہر سے آنے والی وفادار اقلیتیوں کو مضبوط کیا جاتاہے، اور انہیں ترقی کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، مصر کے سرکاری اداروں میں عراق وشام کے لوگوں کو عموما اور یہاں کے عیسائیوں کو ترجیحی بنیاد پر بھرتی کرکےترقی کے مواقع دئے گئے اسی طرح جیسے ہمارے بر صغیر میں برطانوی دور میں پارسیوں اور آغاخانیوں کو آگے بڑھایا گیا تھا۔ لہذا آپ دیکھیں گے کہ مصر میں طباعت اور اشاعت میں شام ولبنان کے دانشوروں نے مقامی مصری باشندوں سے زیادہ نام کمایا ،یہ نام وری عیسائیوں کے حصے میں زیادہ اور اس میں سے کچھ تلچھٹ شامی مسلمانوں کے حصے میں بھی آئی، مصر کے مشہور زمانہ مجلات اور ان کے ناشرین، المقطم،الہلال المنار، دارالمعارف، مصطفی الباب الحلبی، عیسی البابی الحلبی، الفتح، الزہرا، وغیرہ کے بانی ومالک یعقوب صروف،جرجی زیدان ، رشید رضا، نجیب متری، محب الدین الخطیب، وغیرہ شامی یا لبنانی تھے۔
لبنانی عیسائیوں نے سامراجیوں کی فراہم کردہ سہولیات سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لئے، اپنی علمی وادبی کاٹھ مضبوط کرنے کی ٹھانی، خوب محنت کی اور عربی زبان وادب کے میدان میں خود کو ایک مرجع کی حیثیت سے منوالیا،اس کی مثال میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اپنے دور عروج میں دار العلوم ندوۃ العلمائ میں ایسے ہی ایک عیسائی پادری انطون صالحانی الیسوعی کی کتاب "رنات المثالث والمثانی فی روایات الاغانی "شامل نصاب تھی، ابوالفرج الاصبھانی کی تصنیف اور اس کی تہذیب ایک پادری کے قلم سے ہو تو اسے کریلا نیم چڑھا ہی کہا جاسکتا ہے،کتنی حیرت کی بات ہے کہ اسے اپنے دور کے کٹر اہل حدیث عالم ڈاکٹر تقی الدین الہلالیؒ نے اپنے ان لائق وفائق شاگردان کو پڑھایا تھا جو آئندہ زندگی میں آسمان علم وادب اور فکر اسلامی کے آفتاب وماہتاب بننے والے تھے۔اور یہی وہ شاگرد تھے جن سے برصغیر میں عربی زبان و ادب کی نشات ثانیہ ہوئی تھی، اورجنہوں نے عالم عرب سے اپنی فکر سلیم اور عربی زبان وادب پر دسترس کا لوہا منوایا تھا۔ لہذا آپ دیکھیں گے کہ نئے ماحول کے مطابق عربی زبان کے نصاب تعلیم ، اور جدید طرز پر عربی زبان کی مختلف نوعیتوں کی کتب لغت کی اشاعت میں آج بھی مکتبہ لبنان جیسے عیسائی اداروں کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے، اور جس شان کی ، جاذب نظر ، قدیم کتب لغت کو یہ عیسائی ادارے شائع کرتے ہیں، اس کے نمونے اپنوں کے یہاں نہیں ملا کرتے۔ ہمیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ یہ زمانہ مسابقت کا ہے، کوئی بھی تاجر گھاٹے کا سودا نہیں کیا کرتا، اور وہ اپنے گاہکوں کو ٹوٹنے اور دوسرے بیوباریوں کے پاس جانے نہیں دیتا، خاص طور پر اس وقت جب اسے احساس ہو کہ سامنے والا اس کی تاک میں بیٹھا ہے۔ یہاں پر بات ختم کرتے ہوئے ہم کتب لغت کے پس منظر کی طرف چلتے ہیں۔ ( جاری)
2022-10-17

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے