سلسلہ تعارف کتب (99): فکر واحساس کی قندیلیں (مقالات وتبصرے)

تعارف نگار:مولانا ضیاء الحق خیرآبادی

*نام کتاب :فکر واحساس کی قندیلیں* ( مقالات وتبصرے)

*مصنف : نظیف الرحمٰن سنبھلی* (ایم اے)

زیر تعارف کتاب ’’فکر واحساس کی قندیلیں‘‘ جناب نظیف الرحمٰن سنبھلی ( و: یکم ؍ اگست 1950ء) کے ان 35؍ مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف موضوعات پر لکھے گئے ہیں ۔ نظیف الرحمٰن سنبھلی کا تعلق علم وفضل اور شعر ادب کی سرزمین سنبھل سے ہے ، ان کے دادھیال ونانیہال دونوں جگہ ہی علمی ماحول اور شعر اودب کا چرچا تھا ، ان کے والد زاہد حسین صاحب شعر وسخن کا بڑا پاکیزہ ذوق رکھتے تھے ۔ ان کے ماموں مولانا محمد منظور نعمانی جو بعد میں ان کے خسر بھی ہوئے ، اپنے وقت کے نامور عالم ، مصنف، ادیب اور صحافی تھے ۔ اسی علم پرور ماحول میں نظیف صاحب نے آنکھیں کھولیں، تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا، ابتدائی اردو ، فارسی اور عربی میں ایک حد تک استعداد حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ اسکول میں داخلہ لیا ، اور درجہ بہ درجہ ترقی کرتے ہوئےڈبل ایم اے( سیاسیات و اردو)کیا ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی ملک کے اہم رسائل وجرائد میں ان کے مضامین شائع ہونے لگے تھے ۔ اس سے پہلے ’’گلہائے رنگارنگ ‘‘ کے نام ان کا ایک مجموعۂ مضامین شائع ہوچکا ہے۔

کتاب کا پیش لفظ بزرگ صحافی پروفیسر شارب ردولوی کے قلم سے ہے ، مقدمہ نظیف صاحب کے ماموں زاد بھائی ونامور صحافی حفیظ نعمانی نے لکھا ہے جو کتاب وصاحب کتاب کا بہترین تعارف ہے ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عمیر منظر ورضوان احمد فاروقی کی تقریظات ہیں ۔

اس مجموعہ کا پہلا مضمون امروہہ کے اس دوریش صفت وفنا فی العلم عالم کے ادبی کمالات پر ہے جسے دنیامولانا نسیم احمد فریدی کے نام سے جانتی ہے ، اس کا عنوان ’’ امروہہ کی ایک علمی شخصیت کے ادبی کمالات ‘‘ ہے۔ مضمون تو صرف چار صفحات پر مشتمل ہے لیکن دل سے لکھی گئی یہ تحریر اپنی اثر آفرینی میں ضخیم مقالات پر بھاری ہے، اس مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ مضمون نگار کو مولانا فریدی سے غیر معمولی قلبی لگاؤ ہے۔ اس مضمون میں مولانا فریدی کی تحریروں کے جو اقتباسات دیئے گئے ہیں وہ ادب وانشاء کا شاہکار ہیں ، اس کی اختتامی سطروں میں نظیف صاحب لکھتے ہیں :

*’’مولا نانسیم فریدی کی یہ تحریریں جواوپر نقل کی گئیں ادب و انشاء کے بہترین نمونے ہیں، جن سے ان کے اسلوب بیان اور ادب و انشاء میں ان کی مہارت کا پتہ تو چلتا ہی ہے بایں ہمہ ان تحریروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کومختصر خاکہ کشی اور مرقع نگاری کے فن سے بھی اچھی طرح واقفیت تھی۔ مولانا کی یہ ایسی نگارشیں ہیں جن کے ذریعہ انھوں نے اپنی ممدوح شخصیتوں کا تعارف نہایت مختصر اور جامع انداز میں کرایا ہے، اس لئے ان تحریروں کواردو کے نثری ادب میں ایک قابل قدراضافہ سمجھنا چایئے ۔ زبان وادب کے طالب علموں پر مولا نا کاحق ہے کہ وہ ان کی نگارشات پر توجہ دیں اور مولا ناجیسی علمی وادبی شخصیت پر تحقیقی کام کا آغاز کریں تا کہ مولانا نے ہمارے علمی وادبی سرمایہ میں جو اضافہ کیا ہے وہ سامنے آ سکے‘‘۔ *

اس کے علاوہ مولانا فریدی پر مزید چار مضامین ہیں اور ایک مضمون ان کے تلمیذ رشید وخادم خاص اور سوانح نگار مولانا محب الحق مرحوم پر بھی ہے۔

دوسرا مضمون ’’مولانا محمد منظور نعمانی کا اُسلوب بیان ‘‘ ہے، جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ الفرقان کے ابتدائی زمانہ میں ان کا اسلوب مولانا آزاد وغیرہ کا پرتو تھا ، لیکن بعد میں انھیں محسوس ہوا کہ زبان واسلوب ایسا ہونا چاہئے کہ معمولی پڑھا لکھا شخص بھی اسے سمجھ لے۔ اس مضمون کا ابتدائیہ بہت اہم ہے ۔مولانا نعمانی کے سہل اسلوب کے متعلق ان کے صاحبزادے حفیظ نعمانی نے کتاب کے مقدمہ میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نعمانی کے پیش نظر کس طرح کے قارئین تھے ، وہ لکھتے ہیں:

*والد ماجدؒ لاہور میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے دولت خانے پر بیٹھے تھے، پرانی باتیں ہورہی تھیں ۔مولانا اصلاحی نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ میری بیوی آپ کی کتابیں اور مضامین پڑھنا چاہتی ہیں اور میری نہیں ۔ والد ماجد نے جواب دیا کہ آپ جو لکھتے ہیں وہ ہمارے لئے لکھتے ہیں اور ہم جو لکھتے ہیں وہ ان جیسوں کے لئے ،اس میں شکایت کی کیا بات ہے؟ ،،۔*

تیسرا مضمون ’’ مولانا نسیم احمد فریدی کی ایک تحقیقی کاوش ‘‘ ہے ، اس کا موضوع مولانا فریدی کا وہ فاضلانہ وتحقیقی تبصرہ ہے جو انھوں نے عبدالرزاق ملیح آبادی کی کتاب ’’آزاد کی کہانی آزاد کی زبانی ‘‘ پر کیا تھا ، یہ تبصرہ ماہنامہ الفرقان کے شمارہ دسمبر ۱۹۸۸ء میں شائع ہوا تھا ۔ اس تبصرہ میں مولانا فریدی نے مدلل تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ ملیح آبادی نے اس میں جو کہانی بیان کی ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔اس کے علاوہ مولانا فریدی کی تین کتابوں ۱۔ مقالات فریدی، ۲۔ جواہر پارے ، اور۳ ۔سفرنامہ حج پربہترین تعارفی مضامین ہیں۔

اس مجموعہ میں شخصیات پر متعدد مضامین ہیں ، جن میں ایک اہم شخصیت مولانا کریم بخش سنبھلیؒ کی ہے، جو اپنے وقت کے ایک بڑے عالم تھے ، کچھ عرصہ ہمارے ضلع مئو کے مدرسہ دارالعلوم مئو میں شیخ الحدیث رہے ۔ مشہور محدث مولانا حبیب الرحمٰن الاعظمی نے یہیں ان سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ اس کے علاوہ دیگر شخصیات میں مولانا محمود اسرائیلی سنبھلی ، مولانا محمد حسن بدرسنبھلی، اردو دنیا کی نامور شخصیت ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی کے صاحبزادے ڈاکٹر سعادت علی صدیقی،والی آسی، قاضی عدیل عباسی ، مولانا ابوالکلام آزاد ، محمد علی جوہر اور حماد احمد ایڈوکیٹ ہیں ۔

کتاب میں ادبی وتنقیدی مضامین زیادہ ہیں ، جیسے’’ اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ‘‘۔’’ مولانا عبدالماجد دریابادی کا ایک شعری محاکمہ ‘‘۔’’ مرزا مظہر جان جاناں اور آبِ حیات‘‘۔ ’’ غالب اور آزردہ ‘‘ ۔ ــمثنوی زہر عشق : ایک مطالعہ‘‘۔ ’’ وجدان ‘‘۔ ’’حیات اللہ انصاری کے افسانوی ادب کا تنقیدی مطالعہ ‘‘۔ وغیرہ

ایک مضمون ’’ کچھ رسومِ دہلی کے مقدمہ کے بارے میں ‘‘ ہے، اس کو پڑھ کرموصوف کے تحقیقی ذوق کا اندازہ ہوتا ہے۔ ’’ علامہ شبلی نعمانی کی عربی خدمات ‘‘ پر ایک مضمون ہے، جس میں درس نظامی کے نصاب کی اصلاح اور طلباء میں عربی زبان وادب کے ذوق کی آبیاری پر بطور خاص گفتگو کی گئی ہے۔ ایک دلچسپ مضمون ’’ مولانا حکیم محمد ایوب سنبھلی اور علامہ نیاز فتح پوری کا ایک دلچسپ مکالمہ ‘‘ ہے ۔

نظیف صاحب کی یہ پہلی کتاب ہے جو ان کے فرزند محمد اویس سنبھلی کی عنایت وتوجہ سے میرے مطالعہ میں آئی۔ کتاب کی زبان شستہ وشگفتہ اور معیاری ہے ، بے تکلف اور رواں دواں انداز تحریر ہے ، جو مضمون بھی پڑھنا شروع کیا مکمل کرکے ہی چھوڑا ۔ زبان وادب کے شائقین کے لئے ایک بیش بہا تحفہ ہے۔

اس کے صفحات 240؍ ہیں اور سن اشاعت 2017ء ہے۔ اسے مصنف ( موبائل : 9368063956)اور دانش محل امین آباد لکھنؤ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ضیاء الحق خیرآبادی

3؍ربیع الاول 1444ھ مطابق 30؍ستمبر2022ء یوم الجمعۃ

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے