اسلام کا سیاسی انقلاب

محمد اللہ خلیلی قاسمی
چھٹی صدی عیسوی میں اسلام کے ظہور تک عربوں کی سیاسی حالت حد درجہ پست تھی۔ قلب عرب میں تو کوئی سیاسی نظام کبھی قائم ہی نہ ہو، حتی کہ عرب کے سب سے مشہور اور ترقی یافتہ شہر مکہ کے سیاسی نظام کا حال یہ تھا کہ اسے زیادہ سے زیادہ ایک شہری مملکت (City State) کا سیاسی نظام کہا جاسکتا ہے۔ البتہ شمالی و جنوبی عرب یعنی یمن و شام میں وقتاً فوقتاً کچھ قابل ذکر سیاسی نظام قائم رہا ۔ ان حکومتوں میں خاص طور پر قوم سبا کی قومی و تعمیری ترقی کا کچھ ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے جو یمن میں قائم تھی۔ اس کے علاوہ غسانی، لخمی اور حمیری حکومتوں کا ذکر بھی کچھ اہمیت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ظہور اسلام سے قبل جزیرة العرب کے جنوب یا مغرب میں کبھی کبھی کوئی مقامی عرب یا عیسائی حکومتیں بھی سیاسی منظر نامے پر ظاہر ہوئیں ۔ لیکن یہ حکومتیں عام طور جنوب میں جنوب مشرق میں فارس اور مغرب میں رومی بازنطینی حکومت کے تابع اور زیر اثر رہتیں۔ ان حکومتوں کی باگ ڈور عرب قبائل ہی کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ فارس اور رومی حکومتوں نے عرب سے قریب ہونے کے باوجود کبھی عرب پر قبضہ کرنے اور اپنے زیر نگیں کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اور عرب سرزمین اپنی خشک صحرائی اور سنگلاخی خصوصیات کی وجہ سے فاتحین عالم کے لیے کوئی کشش بھی نہیں رکھتی تھی۔ اسی لیے عرب کسی مضبوط سیاسی نظام سے بالکل ناآشنا اور قومی وحدت سے بیگانہ قوم تھی جو قبائل اور خاندانی نظام میں بندھی ہوئی تھی۔
ظہور اسلام کے وقت کی معاصر دنیا بھی سیاسی اتھل پتھل اور بے راہ روی کا شکار تھی۔ ہر جگہ خاندانی، شخصی اور آمرانہ حکومتوں کا دور تھا۔ بادشاہ اور حکمراں معبود یا کم از کم معصوم تصور کیے جاتے تھے۔ ان کا ہر حکم قانون اور وہ قانون سے بالاتر ہوا کرتے تھے۔رعایا حکمرانوں کے غلام اور حکمراں ان کے سیاہ و سفید کے مالک ہوا کرتے تھے۔ بادشاہ کے ایک اشارہ پر کسی رعیت کی جان لی جاسکتی تھی، اس کے لیے کوئی قانون اور ضابطہ نہیں تھا۔ اس وقت کے انسان کے پیروں میں خود انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ دنیا کا سیاسی نظام ظلم و ستم اور عدم مساوات سے عبارت تھا۔ انسانی دماغوں کی بنائے ہوئے قوانین میں کہیں انسانی فطرت سے بغاوت کی گئی اور کہیں حدود سے تجاوز کیا گیا۔ نتیجةً موقع بہ موقع تضادات پیدا ہوئے، تصادم کی نوبت آئی اور بالآخر ایک نظام کی جگہ دوسرے نظام نے لی اور ایک قانون کو توڑ کردوسرا قانون مرتب ہوا۔ اس طرح انسان خود ساختہ قوانین و دساتیر کی چکی میں پستا رہا۔
اسلام کا انقلابی سیاسی نظام
اسلام نے مدینہ منورہ کی سرزمین سے جو سیاسی نظام قائم کیا ، وہ سراسر انقلابی نظام تھا۔ شخصی، خاندانی اور آمرانہ حکومتوں یا انارکی کی جگہ اسلام نے نیا سیاسی نظام متعارف کرایا۔ اس سیاسی نظام نے دنیا کو بتایا کہ اقتدار اعلی صرف اللہ تعالی کے پاس ہے اور حاکم در اصل صرف اسی کی ذات ہے۔ دنیا میں جو بھی ہیں سب محکوم ہیں، خود حکمراں صرف خدائی قانون کی قوت تنفیذی ہے بس۔ اس نظام کی اساس اسلام کا عقیدہٴ توحید تھا۔ اسلامی قانون کی نگاہ میں ایک حکمراں بھی ایک عام شہری کا درجہ رکھتا تھا اور وہ بھی قانون کی سامنے اپنے اعمال کا اتنا ہی جواب دہ تھا جتنا کوئی عام شہری۔ اسی طرح اصل قانون ساز صرف اللہ تعالی کو قرار دیا گیا۔ اسی کا دیا ہوا آئین انسانی زندگی کا آئین اور اسی کا دیا ہوا قانونی انسانی زندگی کا قانون بنا۔ اللہ کے بعد اسلامی قانون میں رسول اللہ (ﷺ) کی حیثیت تھی جو اس دنیا میں اللہ کے نمائندہ اور اس کے احکام و مرضیات کے شارح تھے۔
اس طرح اسلام نے مکمل مساوات کا نظریہ پیش کیا جس کی بنیاد پر قائم ہونے والا سیاسی نظام عدل و انصاف کی کسوٹی بن گیا۔ معاشرہ کے ہر فرد کو یہ حق حقیقی معنوں میں حاصل ہوگیا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی رکھے، انصاف کے حصول میں اسے کوئی رکاوٹ نہ ہو اور وہ آزاد سیاسی فضا میں پر امن زندگی گزار سکے۔ قرآن نے خلافت ارضی کے استحقاق کا معیار تقوی اور اتباع حق متعین کیا۔ شاہی اجارہ داری کا خاتمہ کردیا اور حقیقی جمہوریت کی داغ بیل ڈال کر اس کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ یہی وجہ تھی کہ خلفائے راشدین شرافت نسبی سے بالاتر ہوکر تقوی، دانائی اور شجاعت کے معیار پر چنے گئے اور رعایا کو یکساں حقوق و مراعات دی گئیں۔
اسی طرح اسلام نے ملکی نظام کے لیے قصاص، حدود اور سزاؤں کا ایسا جامع اور پر اثر قانون پیش کیا جس سے بہتر قانون وضع کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہ اسلامی قانون جہاں نہایت وسیع اور جامع ہے وہیں انتہائی لچک دار اور ترقی پذیر بھی ہے۔ نبوی زمانہ اور خلافت راشدہ کا عہد مبارک اس اسلامی قانون کا سب سے زریں اور معیاری زمانہ گزرا ہے۔ اسلام نے انسانی دماغوں کے بنائے ہوئے نظام کے بالمقابل خدائی نظام پیش کیا، اس خدا کا نظام جو انسان کا خالق ہے اور اس کی ساری ضروریات اور اس کے نفع و نقصان کا بہ خوبی علم رکھتا ہے۔ اسلامی نظام کی یہی خوبی تھی کہ وہ دنیا کا ابدی اور سرمدی سیاسی نظام بن گیا۔
مدینہ کا پہلا قانونی چارٹر
اسلام کی اہم سیاسی حصولیابیوں میں وہ تحریری دستور ہے جسے دنیا کا سب سے پہلا تحریری دستور ہونے کا شرف حاصل ہے اور اسے خوش قسمتی سے تاریخ نے لفظ بہ لفظ محفوظ رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کے بعد مقامی یہودی قبائل سے جنگی و سیاسی معاہدے کیے اور ان میں ایک دوسرے کے حقوق وفرائض مرتب کیے۔ سیرت ابن ہشام، کتاب الاموال لابی عبیدہ میں ان معاہدوں اور ان کی دفعات کا تفصیلی ذکر ہے۔ اسی طرح فتوح البلدان للبلاذری میں نجران کے عیسائیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کا تفصیلی ذکر ہے۔ یہ معاہدے جہاں اسلام کی رواداری، عدل و انصاف، حقوق انسانی کی پاسداری کے سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں وہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی فیاضی و سیر چشمی کی کھلی شہادت ہیں۔
اسلامی سیاسی نظام کی خصوصیات
خلافت راشدہ کے دور زریں کی نظیر انسانیت کی پوری سیاسی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔ فتوحات کی کثرت کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف، مساوات وآزادی، شفافیت و امانت داری، سادگی و ایمان داری، نظم و استحکام اور امن و امان اس دور کی وہ ممتاز علامتیں ہیں جن سے تاریخ کی شاہراہیں روشن ہیں۔ ۱۹۳۷ء میں ہندوستان کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو کامیابی ملی، تو اس موقع پر قائد الہند مہاتما گاندھی نے کانگریسی نمائندوں کو خلافت راشدہ کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دیا ۔ ان کے الفاظ میں: ” میں رام چندر اور کرشن کا حوالہ نہیں دے سکتا کیوں کہ وہ تاریخی ہستیاں نہیں تھیں۔ میں مجبور ہوں کہ سادگی کی مثال کے لیے ابوبکر و عمر کے نام پیش کروں۔ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے، لیکن انھوں نے فقیروں والی زندگی گزاری۔“ (ہریجن،27/7/1937 )
اسلام نے نہ صرف عربوں کو ایک قومی دھاگے میں پرو دیا جو تاریخ کے کسی موڑ پر کسی ایک سیاسی نظام کے تحت نہیں آئے تھے، بلکہ اسلام نے چند ہی عشروں میں تین براعظموں (ایشیا، افریقہ اور یورپ ) کی اس وقت کی متمدن اور آباد دنیا کو سرنگوں کر لیا۔ و ہ اسلام ہی کی طاقت تھی کہ جس کی بدولت مسلمانوں نے ایسی دنیا فتح کی جو سکندر اعظم کی حکومت سے زیادہ وسیع تھی اور وہ بھی چند دہائیوں میں جس کو پورا کرنے میں سکندر اعظم کو کئی سو سال لگ گئے۔ اسلامی تعلیمات میں اتنی تاثیر اور بلا کی قوت تھی کہ مسلمانوں کی فتح کا جھنڈا جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر صحرائے افریقہ اور یورپ تک اور مشرق میں آخری حدود تک لہرا گیا۔ افریقہ کے وہ ممالک جو قبطی بولتے تھے اور غیر عربی طرز حیات کے پروردہ تھے، ان کی زبان عربی ہوگئی اور رسم و رواج اسلامی بن گیا۔
اسلام کی سیاسی نظام کی ایک اہم خصوصیت حقیقی جمہوریت کا قیام ہے۔ اسلام نے ایسا قانونی نظام نافذ کیا جس کی نگاہ میں حکمران اور رعایا دونوں یکساں تھے اور دونوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کیا جاتا تھا۔ مساوات اور عدل و انصاف کے ساتھ ، اس نظام میں اظہار رائے کی مکمل آزادی تھی۔ ایک عام شخص کو خلیفة المومنین کے خلاف نہ صرف یہ کہ شکایت کا حق حاصل تھا، بلکہ اس کی بات پورے تحمل اور توجہ کے ساتھ سنی جاتی تھی۔ خلافت راشدہ اور مابعد کے ادوار میں ایسی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں۔
اسلام نے پوری انسانیت کو اس کی فطری آزادی عطا کی۔ مساوات اور فطری آزادی اسلام کے سیاسی انقلاب کی وہ روح ہے جو تمام مسلم حکومتوں اور سلطنتوں میں کم و بیش مشترک طور پر پائی جاتی رہی۔ یہ اسلام کی عطا کردہ آزادی کا ہی کرشمہ تھا کہ قوم مسلم نے ہر میدان میں وہ کارنامے انجام دیے ہیں کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کسی مذہبی قوم نے ان تمام میدانوں میں ایسے کارنامے انجام نہیں دیے۔ دین و سیاست ہو یا ملک و ملت کی خدمت ہو، علم و عمل ہو یا صنعت و حرفت، اقتصادیات و معاشیات کا مسئلہ ہو یا معاشرت و اجتماعیت کا، اس میں نہ مرد و عورت کا فرق رہا ، نہ جوان اور بوڑھے کا، نہ آزاد و غلام کا، نہ حاکم و محکوم کا۔ آپ ہر میدان میں ہر نوع کے افراد کو نمایاں پائیں گے۔ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ اٹھایا بلکہ مسلمانوں کے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلم بھی ان حقوق سے پوری طرح مستفید ہوئے۔ شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو کہ ظہور اسلام کے بعد سے آج تک انسانیت نے جو صحیح و مفید ترقی کی ہے وہ سب اُسی فطری آزادی اور حقیقی جمہوریت کا کرشمہ ہے جو اسلام کے سیاسی انقلاب کے بدولت دنیا کو میسر ہوئی۔
اسلامی نظام بمقابلہ مغربی نظام
گزشتہ چند سو سال کے اندر جب سے مغرب کا سیاسی نظام دنیا پر مسلط ہوا ہے دنیا کو صرف گذشتہ صدی میں عالمگیریت اور ملک گیری کی ہوس میں کم از کم دو عالمی جنگوں کا منھ دیکھنا پڑا ہے، جس کے نتیجہ میں روئے زمین کی سب سے بڑی تباہی اور قتل و غارت گری پیش آئی۔ محتاط اندازے کے مطابق ان جنگوں میں آٹھ کڑوڑ انسانوں کی جانیں گئیں۔ اس کے علاوہ دیگر جنگوں اور آتش و باردو کی کھیل میں کتنی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا وہ اس شمار سے باہر ہے۔ مغرب کی اسی ملک گیری اور استعماریت کی ہوس کی وجہ سے دنیا کے ممالک میں بے حد و حساب اسلحہ اور جنگی ساز و سامان کو بنانے اور جمع کرنے کی دوڑ شروع ہوئی جو اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ آج دنیا سچ مچ بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہوئی ہے۔ انسان نے انسان کو مارنے کے لیے روئے زمین پر اتنے مہلک ہتھیار جمع کرلیے ہیں کہ وہ اس جیسی ہری بھری اور آباد دنیا کو کئی بار تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہیں۔
عہد نبوی کی جنگیں تاریخ انسانی میں غیر معمولی طور سے ممتاز ہیں ۔ اکثر دوگنی یا تین گنی اور بعض اوقات دس گنی طاقت سے مقابلہ ہوا اور قریب قریب ہمیشہ ہی فتح حاصل ہوئی۔ دوسرے چند محلوں پر مشتمل ایک شہری مملکت (City State) سے جو آغاز ہوا وہ روزآنہ دو سو چوہتر میل کے اوسط سے وسعت اختیار کرتا رہا اور دس سال بعد جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو دس لاکھ سے بھی زیادہ مربع میل کا رقبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر اقتدار آچکا تھا۔ اس تقریباً بر عظیم ہندوستان و پاکستان کے برابر وسیع علاقہ کی فتح میں جس میں یقینا ملینوں کی آبادی تھی دشمن کے بہ مشکل ڈیڑھ سو آدمی قتل ہوئے ۔ مسلمان فوج کا مشکل سے اس دس سال میں ماہانہ ایک سپاہی شہید ہوتا۔ انسانی خون کی یہ عزت تاریخ عالم میں بلا خوف تردید بے نظیر ہے۔(عہد نبوی کا میدان جنگ، ڈاکٹر حمید اللہ، ص ۷)
دوسری طرف اسلام نے کچھ معاشرتی وسیاسی مسائل کی وجہ سے غلامی پر اچانک پابندی تو نہیں لگائی لیکن غلامی کے تصور تک کو بدل ڈالا اور ایسے طریقے روشناس کیے کہ جس سے غلامی کا وجود آہستہ آہستہ خودبہ خود اسلامی معاشرے سے ختم ہوگیا۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک غلام کو بھی وہی کھلانے اور پہنانے کا حکم ہوا جو مالک کھاتا اور پہنتا تھا۔ غلام آزاد کیے جانے کو بڑی نیکی شمار کیا گیا۔ یہی وجہ تھی ایک ایک صحابی نے اپنی زندگی میں ہزاروں ہزار غلام آزاد کیے۔ اسلام کی اسی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور سے بعد کے اسلامی ادوار تک بڑے بڑے مسلم علماء و صلحاء ، بزرگان دین اور حتی کہ مسلم حکمرانوں اور ارباب حل و عقد کی صفوں میں غلاموں یا غلام زادوں کی بے شمار تعداد نظر آتی ہے ۔ اتنی بڑی تعداد کہ شاید کسی انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہ ملے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ اسلام نے اپنی حکیمانہ تعلیمات کے ذریعہ غلامی کے مسئلہ کو بالکل ختم کردیا تھا، اس مغرب کی تہذیب یافتہ قوموں نے پندرہویں سے انیسویں صدی کے درمیان آزاد انسانوں کو غلام بنانے کا ایسا گھناؤنا طریقہ اختیار کیا کہ پوری انسانی تاریخ میں ایسی وحشیت و بربریت کی مثال ڈھونڈنی مشکل ہوگی۔ مغربی ممالک (پرتگال، برطانیہ، فرانس، اسپین، نیدر لینڈ اور امریکہ) نے نئی دنیا امریکہ میں اپنی نوآبادیوں کو بسانے کے لیے افریقی بر اعظم سے تقریبا ۱۲ ملین (ایک کروڑ بیس لاکھ) کالے انسانوں کو جانوروں کی طرح شکار کر کے بحری جہازوں میں بھر بھر امریکہ ایکسپورٹ کیا، جن میں تقریباً بیس فی صد (یعنی پچیس لاکھ) دم گھٹ گھٹ کر مر گئے اور جو امریکہ پہنچے وہ غلامی کی بدترین شکلوں نسل در نسل جھیلتے رہے۔ غلامی کے مسئلہ کو از سر نو مغرب نے شروع کر کے اور پھر اس ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کرنے کے بعد آخر کار انیسویں صدی کے وسط میں کہیں جاکر غلامی کے خاتمے کی طرف اقدامات کیے۔
حقوق انسانی کی دہائی دینے والا یورپ ہی انسانی جان و مال کا سب سے بڑا دشمن رہا ہے۔ اب تک کی معلوم عالمی تاریخ میں یورپ نے سب سے زیادہ انسانی خون بہایا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق انسانی کا جو چارٹر حجة الوداع کے موقعہ پر دنیائے انسانیت کو پیش کیا اور آپ نے اور آپ کے پیرووں نے بعد میں عملی دنیا کے اندر جس طرح اس کو نافذ کرکے دکھادیا، یورپ آج تک اس کا عشر عشیر نہ کرسکا۔ مغرب کے حقوق انسانی کی ساری تگ و د و کا محور صرف مغربی اقوام ہیں۔ آج بھی جمہوریت کے ملمع نعروں،مساوات کے کھوکھلے دعووں اور انسانی حقوق کی بلند بانگ دہائی کے ساتھ، مغرب اپنے مفاد کی خاطر بے غیرتی اور بے شرمی کی ہر حد کو پھلانگنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
مغرب میں نسلی امتیاز ہمیشہ سے ایک اہم سماجی و سیاسی مسئلہ رہا ہے اور تہذیب و تمدن کے تمام دعووں کے باوجود ابھی تک اس اہل مغرب کی یہ رسی سے بل نہیں گیا ہے۔ مغرب میں نسلی امتیاز پر موٴثر انداز میں بیسویں صدی کے وسط تک قابو پایا گیا جب کہ اس سے چودہ سو سال قبل ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم عصبیت، نسلی امتیاز اور طبقاتی کشمکش کو حجة الوداع کے موقعہ پر اپنے قدموں کے نیچے روند چکے تھے اور اسلام نے ایک مختصر مدت میں اس برائی کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا تھا۔ اسی طرح مغرب کو عورتوں کے حقوق کا چمپئن سمجھا جاتا ہے۔ عورتوں کو مکمل آزادی اور مساوات دینے کی دعوے کے باوجود مغربی ممالک عورت کو حق رائے دہی بیسیویں صدی کے وسط میں دے سکے اور امریکہ کی دو سو سال سے زیادہ کی تاریخ میں آج تک کوئی عورت صدر مملکت نہیں بن سکی، جب کہ اسلام نے ابتدا ہی سے عورت کو وہ تمام سماجی و انسانی حقوق عطا کر دیے تھے جس کا تصور آج موجود ہے اور ایک ایسے دور میں جب یورپ میں عورت کو ’شیطان کی بیٹی‘ ، ’نجاست کا مجسمہ‘ اور سامان تجارت سمجھا جاتا تھا۔
خلاصہٴ کلام
یہ اسلام کا سیاسی انقلاب ہی تھا کہ دنیا کو ایسا سیاسی نظام میسر ہوا جس کی روح عدل و مساوات ، امن و رواداری ، جمہوریت اور حقوق برآری تھی۔ اس نظام کی برکت سے دنیا کا سیاسی نظام ایک ایسے دور میں داخل ہوا جہاں معاشرے کے ہر فرد کو آزادی حاصل تھی، مظلوم کو انصاف ملتا تھا اور کمزور کو تحفظ ملتا تھا۔ جمہوریت اور آزادی جس سے مغرب ابھی چند صدیوں قبل آشنا ہوا ہے وہ در اصل اسلام کے اسی صالح سیاسی انقلاب کا چربہ ہے جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے دنیا میں برپا ہوا اور ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر قائم و دائم رہا۔
قرآنی نظام حکومت جہاں نافذ ہوا وہاں امن و امان اور خیر و صلاح کا دور دورہ رہا اور فتنہ و فساد ناپید رہا۔ تاریخ کے اس دور میں جب اسلامی نظام ایک غالب نظام کی حیثیت رکھتا تھا، کہیں بھی انسانیت کو کسی قسم کا شدید ترین بحران نہیں لاحق ہوا۔وہ خواہ اخلاق و معاشرت کا معاملہ ہو، یا حقوق و معاملات ہوں یا سیاست اور ملک رانی کا معاملہ ہو، کسی بھی سطح پر دنیا میں کوئی عظیم بحران پیش نہیں آیا۔

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔