سلسلہ تعارف کتب (88): دیارِ پورب میں علم اور علماء

تعارف نگار:مولانا ضیاء الحق خیرآبادی

*نام کتاب: دیارِ پورب میں علم اور علماء*

*مصنف: مولانا قاضی اطہر مبارکپوری*

یہ کتاب دیار پورب کی 602ھ سے 1273ھ تک یعنی پونے سات سو سالہ علمی و دینی تاریخ اور یہاں کے علماء کی حیات اور ان کے علمی کارناموں پر مشتمل ہے اور اس خطہ کی معتبر ومستند ترین تاریخ ہے۔اس خطہ کی تاریخ و تذکرہ لکھنے والے حضرات اس کتاب سے کبھی بے نیاز نہیں ہوسکتے۔اس کے مصنف مولانا قاضی اطہر مبارکپوری (م: 16/جولائی 1996) کی مورخانہ حیثیت اس قدر مسلّم ہے کہ اس کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔

کتاب کے آغاز میں ”دیار پورب کے چار علمی ادوار ”کے عنوان سے اس خطے کی سا ت سو سالہ علمی تا ریخ اجمالاً بیان کردی گئی ہے ۔بقول ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی : *”سو صفحات پر مشتمل یہ مضمون در حقیقت پو ری کتا ب کی جا ن ہے۔اس کے مطا لعے سے قاضی صاحب کے مؤرخانہ ذہن کی زر خیزی اور گہرائی و گیرائی کا پو را پو را اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔،،* اس کے بعد اس خطہ کے 8 مشاہیر علماء ومشائخ کا ذکر ہے جن کے نام آگے مذکور ہیں۔

قاضی صاحب خطۂ پورب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :

*” مسلم دورحکومت میں دہلی کے مشرق میں صوبہ الہ آباد ، صوبہ اودھ اور صوبہ عظیم آباد پر مشتمل جو وسیع اور محدود خطہ ہے اس کو ملک پورب کہتے تھے ، ہر صوبہ میں دارالامارت ہر دارالامارت سے متعلق بڑے بڑے شہر ، ہر شہر سے متعلق قصبات اور ہر قصبہ سے متعلق دیہات تھے ، ملک پورب کے قصبات شہروں کے حکم مین تھے جن میں عالی شان عمارتیں ، شرفاء کے محلات ، علماء مشائخ ، مختلف قسم کے پیشہ ور ، مدارس ومساجد تھیں جو جمعہ و جماعت سے معمور رہتی تھیں ، اسی ملک کو ہم دیار پورب سے تعبیر کرتے ہیں ۔ (ص:٤٨ ، طبع دوم ، مکتبہ البلاغ دہلی)*

قاضی صاحب نے مقدمہ کے آغاز میں یہاں کے علماء ومشائخ کے نام جو شمار کرائے ہیں اسے دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ علاقہ اس دور میں علم وعرفان کے زمزموں سے کس قدر معمور اور پرشور رہا ہوگا، قاضی صاحب لکھتے ہیں :

اس خطہ ٔ زمین سے شیخ الاسلام فرید الدین اودھی ، شیخ الاسلام شرف الدین یحییٰ منیری ، مولانا علاء الدین نیلی اودھی ، شیخ شمس الدین یحییٰ ادوھی، شیخ نصیر الدین ا ودھی ، چراغ دہلی ، شیخ حسام الدین مانک پوری ، راجہ سید حامد شاہ مانک پوری ، ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی ، ملا محمود جونپوری ، ملا محمد افضل جونپوری ، مولانا حاجی ابوالخیر بھیروی ، مولانا الہداد جونپوری ، دیوان محمد رشید جون پوری ، شیخ احمد عبدالحق ردولوی ، سید اشرف جہاںگیر سمنانی ، شیخ علی متقی جونپوری ، برہان پوری مکی ، علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی ، شیخ محب اللہ بہاری، حافظ امان اللہ بنارسی ، ملا احمد جیون امیٹھی ، ملا نطام الدین فرنگی محلی ، شیخ غلام نقشبند گھوسوی لکھنوی ، مولانا شاہ ابوالغوث گرم دیوان بھیروی لہراوی اور ان کے علاوہ بہت سے عباقرہ دوراں اور جہابذۂ زماں پیدا ہوئے ، اس دیار میں روحانی طرق سلاسل میں چشتیہ ، سہروردیہ ، شطاریہ ، اشرفیہ ، قلندریہ عاشقیہ، مداریہ کو فروغ حاصل ہوا۔ آخری دور میں اس سرزمین سے مجاہدین کی تحریک عام ہوئی جو بنگال سے سرحد تک پھیلی ہوئی تھی ۔ ص:٤٥

لیکن اسی کے ساتھ قاضی صاحب کو حیرت اور تعجب بھی ہے کہ :

مگر یہ عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے علماء وفضلاء ومشائخ کے مقابلہ میں دیار پورب کے ان بزرگوں کے تذکرے بہت کم لکھے گئے اور جو کچھ موجود ہیں وہ بہت بعد کی کتابوں کے رہینِ منت ہیں۔ ……….. اور علما ئے پورب پر اب تک کوئی ایسی جامع اور مفصل کتاب نہیں لکھی گئی جس سے ان کی شخصیت اور ان کے کارناموں کا تفصیلی تعارف ہو سکے اور معلوم ہو کہ اس قدیم معدن علم و علماء اورشیرازہند پورب سے کیسے کیسے سرآمدگان روزگار اٹھے ہیں اور انھوں نے کیا خدمات انجام دی ہیں ۔ ص:٤٦ ٤٧

اسی احساس کے ساتھ قاضی صاحب نے قلم اٹھایا اور اس علمی وتاریخی قرض کو چکانے کی کوشش کی جو اب تک یہاں کے لوگوں پر تھا ، اس کے لئے انھوں نے جو تلاش وجستجو اور تگ ودَو کی ہے اس کا اندازہ مراجع ومصادر کی اس فہرست سے ہوتا ہے جو کتاب کے شروع میں درج ہے ، اس میں عربی ، فارسی اور اردو کی 79 کتابوں کا ذکر ہے ، جس میں سے ایک درجن کے قریب قلمی کتابیں بھی ہیں ۔ قاضی صاحب نے یہاں کی علمی تاریخ کو چاراَدوار میں تقسیم کرکے ہر دور کی دینی وعلمی سرگرمیوں اور اس دور کے علماء ومشائخ کے احوال کو بیان کیا ہے۔ *پہلا دور* ٦٠٢ھ سے ٧٧٢ھ تک کو قرار دیا ہے۔ اس حصہ میں انھوں نے بتایا کہ یہاں اسلام کی روشنی کب پہنچی ، سید سالار مسعودغازی اور ان کے مجاہدین کا تذکرہ ، شہاب الدین غوری اور اس کے غلام قطب الدین ایبک اور غلام خاندان پھر خلجیوں اور تغلق خاندان کا ذکر کیا ہے، تغلق خاندان کے نامور بادشاہ فیروز شاہ تغلق نے جس کا نام جونا تھا ، جون پور شہر کو ٧٧٢ھ میں آباد کیا، شہر جون پور کی تعمیر تک کو قاضی صاحب نے دور اول قرار دیا ۔اس پونے دو سو سال میں یہاں کے علماء ومشائخ اور ان کے کارناموں کا تذکرہ اور یہاں کی علمی ودینی ا ورتاریخی سرگرمیوں کو بیان کیا ہے ۔

*دوسرا دور* ٧٧٢ھ سے ٩٣٢ ھ تک کو قرار دیا ہے ، یعنی تاسیس جونپورسے لودھی سلطنت کے خاتمہ تک ، یہ دورتاریخ جون پور کا انتہائی روشن وتابناک دور ہے ، اسی دور میں فیروز شاہ تغلق نے مولانا علاء الدین دہلوی کو یہاں بھیجا جو چار سو طلبہ کے ہمراہ پورے شاہی اعزاز کے ساتھ یہاں آئے اور ان کی جدوجہد اور کوشش کے نتیجہ میں یہاں درجنوں مدارس قائم ہوگئے اور علوم وفنون کا ہر طرف چرچا ہونے لگا۔ اسی دور میں یہاں علوم فنون کی سرپرستی کرنے والی شرقی سلطنت قائم ہوئی جس نے اس خطہ کو رشک دہلی وشیراز بنادیا ، قاضی صاحب لکھتے ہیں :

جون پور کی تاسیس ٧٧٢ھ سے لے کر شرقی سلطنت کے پہلے حکمراں کے آخری زمانے ٨٠٢ھ تک دیار مشرق میں علم و علماء کی تازہ بہار آتی رہی اس دور میں جب کہ دہلی کا مرکز حوادث و فتن کی آماجگاہ بنا ہوا تھا اور وہاں کی علمی اور دینی محفلیں اجڑ اجڑ کر دوسرے دیار وامصار کی طرف منتقل ہو رہی تھیں جون پور دارالعلوم دارالامان اور دہلی ثانی بن رہا تھا۔…..شرقی سلطنت کے تیسرے سلطان ابراہیم شاہ شرقی کا چالیس سالہ دور اس سلطنت کا عہد زریں ، اور پورب میں علمی بہار کا زمانہ ہے ،( ص:٦٨) ابراہیمی دور میں تمام اطراف کے علماء ومشائخ کھنچ کھنچ کر جون پور آگئے اور ہندوستان کے علم کا خلاصہ یہاں جمع ہوگیا۔( ص:٧١)

اس دور کے علماء میں قاضی شہاب الدین دولت آبادی اور قاضی نصیر الدین دہلوی وغیرہ درجنوں علماء کا تذکرہ کیا ہے۔

*تیسرا دور* ٩٣٢ھ سے ١١٣٠ھ تک محیط ہے ۔ اس کے بارے میں قاضی صاحب لکھتے ہیں :

اس دو سو سالہ مدت میں ہندوستان کے مختلف دیار وامصار کی طرح دیار پورب میں بھی بہت سے علمی و دینی مرکز پورے انبساط ونشاط کے ساتھ اپنے اپنے علمی حلقوں میں کام کرتے رہے ، کہنا چاہئے کہ گذشتہ دونوں ادوارکے حسنات وبرکات تیسرے دور میں پوری طرح کھل کر سامنے آگئے تھے اور اس دیار کے قصبات و قریات علم و علماء کی کثرت اور سرگرمی کی وجہ سے ہرات اور نیشاپور معلوم ہوتے تھے ، اور اسی دور کے پانچویں سلطان شہاب الدین ، محمد شاہ جہاں کی زبان سے بے ساختہ یہ جملہ نکلا کہ ”پورب شیرازماست” ص: ٩٥

علم وفن کی جو بہار دوسرے دور میں یہاں خیمہ زن ہوئی تھی وہ اب سدابہار بن چکی تھی ، یہ دور یہاں علوم وفون کی ترقی کا عہد شباب تھا ،ایک سے ایک کامل الفن علماء یہاں موجود تھے جن میں ملا محمد افضل جونپوری بطور خاص ہیں ، جن کے تلامذہ میں ملا محمود جونپوری اور دیوان محمد رشید جونپوری جیسے اساطین شامل ہیں۔ اسی دور میں راجہ سید مبارک شاہ نے مبارکپور کو آباد کیا تھا ۔تفصیلات کے لئے اصل کتاب کا مطالعہ کریں۔

*چوتھا دور* ١١٣٠ھ سے١٢٧٣ھ تک ہے ، یہ دور سیاسی افراتفری اور اتھل پتھل کا تھا ، اسی دور میں انگریزوں نے استحکام حاصل کیا ، اودھ پر شیعوں کا تسلط قائم ہوا ، اور انھوں نے چن چن کر سنی علماء اور ان کے مراکز علم کو ختم کیا اور ان کو طاقت وحکومت کے زور پر شیعیت قبول کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کے نتیجہ میں صدیوں سے یہاں قائم علوم وفنون کی بہارخزاں میں تبدیل ہوگئی ۔ قاضی صاحب لکھتے ہیں :

اس دور میں ان اطراف کی ساری علمی رونق سمٹ کر ایک مخصوص طبقہ ( شیعوں) میں محدود ہوکر رہ گئی ، قدیم علمی و دینی خانوادے تباہ و برباد ہوگئے ۔ ان کی جاگیریں اور معافیاں ضبط کر لی گئیں ، وظائف بند کر دئیے گئے اور مختلف طریقوں سے ان کو شیعہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک نیا علمی ماحول اور نئی مذہبی زندگی قائم ہوئی ۔ص:١٢٧

بربادی کی اس داستان اور تباہی کے ان واقعات کو قاضی صاحب نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔اس طرح جون پور کی پونے سات سو سالہ تاریخ کو قاضی صاحب نے پانچ سو بارہ صفحات میں سمیٹ دیا ہے ۔ مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:

قاضی صاحب نے اس کتاب میں تاریخ کی ایک نئی جہت کا سفر شروع کیا ہے ، یہ کام بہت مشکل تھا مگر قاضی صاحب کی ہمت مردانہ ایسی ہی مشکل جہتوں کو اختیار کرتی تھی اور مظفر ومنصور ہوا کرتی تھی ۔ عرب و ہند کے قدیم کی تعلقات تلاش میں نکلے ، تو کئی کئی مجلدات تیار کر دئیے ، پورب میں علم و علماء کی کہانی سنانے بیٹھے تو تقریباً پانچ سو صفحات کا ایک ضخیم دفتر تیار کر دیا۔

اس اجمالی تاریخ اور تذکرے کے بعد قاضی صاحب نے کچھ خاص خاص بڑے بڑے علماء کے تفصیلی تذکرے لکھے ہیں جن کے ضمن میں اور بھی بہت سے علماء کا ذکر آگیا ہے ، اس طرح یہ کتاب نادر معلومات کا گنج گرانمایہ بن گئی ہے ، جن علماء کا تفصیلی تذکرہ قاضی صاحب نے کیا ہے ان کی فہرست علی الترتیب یہ ہے۔

(١) ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی متوفی ٨٤٩ھ قاضی صاحب کاتذکرہ ص:١٤٤ سے ص:٢٢٩ تک پھیلا ہوا ہے۔

(٢) حضرت راجہ سید حامد مانک پوری متوفی ٩٠١ھ ان کا اور ان کے خانوادے کے حالات کا سلسلہ ص:٢٣٠ سے ص: ٢٦٨ تک ہے۔

(٣) حضرت میر علی عاشقان سرائمیری متوفی ٩٥٠ھ ان کا تذکرہ ص: ٢٦٩ سے ص: ٣٠٤تک پھیلا ہوا ہے۔

(٤) ملا محمود جونپوری متوفی ١٠٦٢ھ یہ تذکرہ ص: ٣٠٥سے ص:٣٨٥ تک پھیلا ہوا ہے۔

(٥) مولانا حافظ امان اللہ بنارسی متوفی ١١٣٣ھ یہ تذکرہ ،ص: ٣٨٦ سے شروع ہوتا اور ص:٤٠٤ پر اختتام کو پہونچتا ہے۔

(٦) مولانا شیخ غلام نقشبندی گھوسوی متوفی ١١٢٦ ان کا تذکرہ ص:٤٠٥ سے شروع ہوکر ص: ٤٣٠ پر ختم ہوتا ہے۔

(٧) مولانا شاہ ابوالغوث گرم دیوان بھیروی لہراوی متوفی ١١٧٨ھ از ص: ٤٣١ تا ص: ٤٧٣

(٨) مولوی حسن علی ماہلی متوفی ١٢٥٨ھ از ص: ٤٧٤ تا ص:٤٩٥

( ماہنامہ ضیاء الاسلام قاضی اطہر نمبر ،ص:٣٤٠)

یہ کتاب سب سے پہلے ندوة المصنفین دہلی سے 1979ء میں شائع ہوئی ، اور ہاتھوں ہاتھ لی گئی ۔ ندوة المصنفین کے زوال کے بعد اس کتاب کا حصول ایک مشکل امر بن گیا ۔ طبع اول کے تیس سال بعد مولانا طلحہ ایوب اصلاحی نے 2009ء میں جدید کتابت اور عمدہ طباعت کے ساتھ اس کا شاندار ایڈیشن اپنے مکتبہ ” البلاغ پبلیکیشنز دہلی ” سے شائع کیا، 2020ء میں انھوں نے اس کا تیسرا ایڈیشن شائع کیا جو حسن طباعت میں سابقہ ایڈیشن سے بھی بہتر ہے۔یہ کتاب 512/صفحات پر مشتمل ہے، اس مضمون میں طبع دوم کے صفحات دیئے گئے ہیں جو انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔

کتاب ” البلاغ پبلیکیشنز دہلی ” اور مکتبہ ضیاء الکتب خیرآباد سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ضیاء الحق خیرآبادی

21؍صفر 1444ھ مطابق 19؍ستمبر2022ء دوشنبہ

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔