سلسلہ تعارف کتب (87): نسیمے از بِہار (خود نوشت)

تعارف نگار:مولانا ضیاء الحق خیرآبادی

*نام کتاب : نسیمے از بِہار* ( خود نوشت)

*مصنف : نسیم احمد*

پٹنہ کے حالیہ سفر میں دو قدیم آرزوئیں پوری ہوئیں ،ایک کلیم عاجز صاحب کے گاؤں تیلہاڑہ کی زیارت اور دوسرے ان کے چھوٹے بھائی نسیم احمد کی خود نوشت سوانح ’’نسیمے از بِہار ‘‘ کاحصول۔ یہ خود نوشت آج سے 6؍ سال سے قبل اگست 2016ء میں شائع ہوئی ہے ، جسے میں کوشش کے باوجود حاصل نہ کرسکاتھا۔ اس سفر میں نسیم صاحب کے صاحبزادے اور روزنامہ’’ قومی تنظیم‘‘ کے نیوز ایڈیٹر احمد راشد صاحب سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے ازراہ کرم کتاب پیش کی۔مجھے کلیم عاجز صاحب اور ان کے خانوادے سے جو قلبی لگاؤ ہے اس کا نتیجہ ہے کہ کتاب ملنے کے بعدجب پڑھنا شروع کیا تو ختم کرنے کے بعد ہی رکھا،اور اب اس کا مختصر تعارف پیش کررہا ہوں۔

نسیم صاحب 1932ء میں تیلہاڑہ میں پیدا ہوئے ، بچپن تیلہاڑہ میں گزرا، ابتدائی تعلیم وہیں اپنے نانا سے حاصل کی ، جس کا ذکر کلیم صاحب نے بھی ’’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی ‘‘ میں تفصیل سے کیا ہے۔ اس کے بعد یہ بھی والد صاحب کے ساتھ کلکتہ میں رہے ۔ والد کے انتقال کے بعد جب کلکتہ کی دوکان پٹنہ منتقل ہوئی اور کلیم صاحب کی ذمہ داری میں آئی توانھوں نے اپنے بھائی تو بھی ساتھ رکھا اور یہ یہیں تعلیم حاصل کرنے لگے ۔ اسی دوران 1946ء کا وہ المناک ودلدوز سانحہ پیش آیا جس میں انھوں نے والدہ وبہن سمیت پورے خاندان اور گاؤں کو کھودیا۔ اسی وقت جماعت اسلامی کے لٹریچر سے متاثر ہوکر یہ مولانا مودودی سے ملنے پٹھان کوٹ کے لئے نکل گئے ۔ان کی تلاش میں کلیم صاحب بے قرار ہوکر پٹھان کوٹ کےلیےنکل گئے، مولانا مودودی سے ملاقات کی، لیکن بھائی وہاں نہ ملے، تو مولانا نے مشورہ دیا کہ لاہور جاکر نصراللہ خان عزیز کے روزنامہ کوثر میں ایک اشتہار دیدیں، یہ وہاں پہنچے تو نسیم صاحب وہیں دفتر میں مل گئے، اس طرح ان کو لاہور سے لے کر پٹنہ آئے۔ یہ داستان اس کتاب میں بھی ہے اور اس سے کہیں تفصیل سے کلیم صاحب کی داستان حیات میں اس کا ذکر ہے۔

اس کے بعد دونوں بھائی ایک عرصہ تک ساتھ رہے ، شادی کے کچھ عرصہ بعد نسیم صاحب نے اپنے بعض مصالح کی بنا پر بہار شریف میں اقامت اختیار کرلی ، لیکن دونوں بھائیوں میں جو بے مثال تعلق اور غیر معمولی وابستگی تھی وہ اخیر حیات تک باقی رہی ۔

کلیم صاحب کی خود نوشت میں ایک طرح کاوالہانہ پن اور وارفتگی وربودگی ہے اور اس میں ایک ٹھہراؤ اور ترتیب ہے۔ یہ آپ بیتی بھی نہایت دلچسپ اور سبق آموز ہے ۔ اس کا آغاز احمد علی اختر سکریٹری جماعت اسلامی بہار کے پیش لفظ سے ہوتا ہے ، جس میں انھوں نے کتاب اور صاحب کتاب کا بہترین تعارف کرایا ہے، اس کے بعد ’’ دولفظ ‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر کلیم عاجز کی ایک مختصر سی تحریر ہے جو اس کتاب پر ان کے تاثرات ہیں ۔ ’’ میرا گھر ، میرا گاؤں‘‘ کتاب کا پہلا عنوان ہے ،جس میں ذاتی وخاندانی احوال کے ساتھ اس زمانہ کی تہذیبی واخلاقی قدریں، باہمی رواداری، شرافت واخوت اورانسانیت ومروت کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ تیلہاڑہ ان لوگوں کا نانیہال ، جائے پیدائش اوروطن ثانی تھا ، آبائی وطن تیلہاڑہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر ایک بستی ’’نرائچ ‘‘ تھا ۔ یہ سب بستیاں 1946ء کے فساد میں مسلمانوں سے مکمل خالی ہوگئیں۔اس کے بعد کلکتہ میں اپنے والد کے کاروبار، ان کی محنت وجفاکشی اور ایمانداری ، ان کی اصول پسندی ، ایک واقعہ کے نتیجہ میں والد کاتیلہاڑہ واپس آنااور ان کا انتقال ، اس کے بعد کاروبار کا پٹنہ منتقل ہونا ، بڑے بھائی کلیم عاجز کی غیرمعمولی شفقت ومحبت کا تذکرہ یہ سب باتیں دامن دل کو اپنی طرف کھینچتی ہیں ۔

1946ء کا بہار کا فرقہ وارانہ فسادیا مسلمانوں کا قتل عام، بہت سے علاقوں اور خطوں کا مسلمانوں سے خالی ہوجانایہ سب اس داستان کا حصہ ہیں ۔ اس حادثہ کے بعد نسیم صاحب کا ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہونا اور اس پر کلیم صاحب کا اضطراب وبے قراری،اور کلیم صاحب کی اہلیہ یعنی اپنی بھابھی کی غیر معمولی شفقت وتیمارداری کو اس والہانہ انداز میں بیان کیا ہے کہ دل امڈ آتا ہے۔ لکھا ہے کہ بھائی صاحب نے تو باپ بن کر سرپرستی کی ہی ، بھابھی کا وجود میرے لئے ایک ماں اور بہن کا عکس اور پرتو تھا، انھوں نے اپنی اولاد کی طرح خدمت کی۔ اس کتاب سے یہ بات بھی معلوم ہوئی دونوں بھائی باہم سمدھی بھی تھے ، کلیم عاجز صاحب کے صاحبزادے احمد فاطمی نسیم صاحب کے داماد ہیں۔

گھریلو احوال کے ساتھ اس زمانہ کی پٹنہ کی بہت سی اہم شخصیات اور جماعت اسلامی۔۔۔ جس سے نسیم صاحب کی گہری وابستگی تھی۔۔۔ کے رفقاء واحباب ،جماعت کی سرگرمیوں واجتماعات کی روداد بھی آگئی ہے۔ انھوں نے دوحج کئے ، اس کی رودادسفر بھی اختصار کے ساتھ آگئی ہے ۔ وہ شخصیات جن سے وہ متاثر تھے ،ان کا باقاعدہ عنوان قائم کرکے الگ سے ذکر کیا ہے ۔ غرض انھوں نے اپنی ستر سالہ داستانِ حیات کے اہم گوشوں کو اس کتاب میں سمیٹ دیا ہے۔

کتاب کی زبان بڑی سلیس وشستہ اور رواں دواں ہے ، نمونہ کے طور پر ایک اقتباس پیش کرتا ہوں ، واضح رہے کہ نسیم صاحب جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور کلیم عاجزصاحب بہار تبلیغی جماعت کے امیر تھے ، لیکن دونوں میں جو تعلق تھا وہ آج کی دنیا میں خواب وخیال ہے۔ 1946ء کے ہنگامے کا ذکر کرنے کے بعد نسیم صاحب لکھتے ہیں :

’’ *ہم نے راضی بہ رضائے الٰہی کا سبق سیکھ لیا تھا۔ ان کو شاعری کی پیغمبری ملی ، ہم کو احیائے خلافت کا سودا ملا ۔ ہم دونوں نے ترسیل کو مصروف رہنے کا ذریعہ بنایا۔اگر یہ ذریعہ ہاتھ نہ آتا تو شاید ہم لوگوں کا جینا دوبھر ہو جا تا۔ ان کی ترسیل شاعرانہ اور فلسفیانہ تھی ، میری داعیانہ اور راست بازانہ۔*

*ہم دونوں کو دوخضر راہ ملے ۔ ایک کو مولانا الیاس دوسرے کومولانا مودودی۔ایک کی زبان پر دعا ئے نیم شبی تھی ،دوسرے کے ہاتھ میں عصائے موسوی۔ ایک نے طوفان نوح بر پا کیا، دوسرے نے دریائے نیل پارکیا۔ دونوں کا نصب العین ایک تھا، طریقے جدا جدا۔ دونوں کی منزل ایک تھی اور وہ منزل’’ ـ احیائے دین‘‘ کی منزل تھی لیکن لائن الگ الگ‘‘۔ (ص: ۶۵)*

اس تحریر میں اپنا اور بھائی کا تجزیہ کس قدر خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ نسیم صاحب ایک مرتبہ افتخار فریدی مرادآبادی کی دعوت پر نظام الدین مرکز بھی گئے ، جہاں ان کی ملاقات مولانا انعام الحسن کاندھلوی اور حضرت شیخ الحدیث رحمہما اللہ سے بھی ہوئی ، وہ وہاں کے نظام سے متاثر ہوئے ۔ واپسی پر انھوں نے فریدی صاحب کو ایک خط لکھا تھا ، جس کا خلاصہ انھوں نے کتاب کے بالکل آخری صفحہ پر درج کردیا ہے ، جو مجھے بہت اہم معلوم ہوا، جماعت اسلامی وتبلیغی جماعت اور تمام دینی جماعتوں کواسے پیش نظر رکھنا چاہئے ۔

کتاب 184؍ صفحات پر مشتمل ہے ،اس کی تکمیل فروری 2009ء میں ہوئی اور اشاعت اگست 2016ء میں ۔یہ کتاب مصنف کے صاحبزادے احمد راشد اور بک امپوریم پٹنہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ضیاء الحق خیرآبادی

20؍صفر 1444ھ مطابق 18؍ستمبر2022ء اتوار

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔