سلسلہ تعارف کتب (44): کتاب سیرۃ الرسول ﷺ

*تعارف نگار:مولانا ضیاء الحق خیرآبادی*

*نام کتاب :کتاب سیرت الرسول ﷺ*

*مصنف : مولانا محمد عثمان معروفی ؒ*

رسول اللہﷺ کی ذات پاک سے مسلمانوں کو جو والہانہ لگاؤ اور غیر معمولی تعلق و شیفتگی ہے وہ محتاج بیان نہیں ۔ ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کی سیرت پاک کو بیان کرے ، بلامبالغہ لاکھوں افراد ایسے ہوں گے جنھوں نے زبان وقلم سے بارگاہ نبوی ﷺ میں اپنی محبت وعقیدت کا نذرانہ پیش کیا ہوگا ، دنیا کی شاید ہی کوئی زبان ایسی ہوگی جس میں آپ کی سیرت پاک پر کتابیں اور مقالات نہ لکھے گئے ہوں ۔ اردو زبان میں بھی ڈھیر ساری ضخیم ومختصر کتابیں اس موضوع پر شائع ہوچکی ہیں ، جن میں سیرۃ النبی علامہ شبلی وسید سلیمان ندوی ۔سیرۃ المصطفیٰ ،مولانا محمد ادریس کاندھلوی ۔رحمۃ للعالمین قاضی سلیمان منصورپوری۔ اصح السیر مولانا عبد الرؤف داناپوری ۔ سیرت رسول کریم مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور النبی الخاتم مولانا مناظر احسن گیلانی وغیرہ کو غیر معمولی قبول عام حاصل ہوا۔

ابھی ماضی قریب میں میاں محمد طفیل مدیر ’’نقوش ‘‘ لاہور نے اپنے مشہور زمانہ رسالہ کا ’’رسول نمبر‘‘ نکال کر اردو کے سیرتی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ کیا ۔ یہ عظیم وضخیم نمبر۱۳؍ جلدوں پر مشتمل ہے اور ہر جلد کے تقریباً ہزار صفحات ہیں ۔ اردو میں سیرت کے موضوع پر اس سے جامع شاید ہی کوئی دوسری کتاب ہو۔

زیر تعارف کتاب ’’ کتاب سیرۃ الرسول ﷺ‘‘ بھی اسی موضوع پر ایک منفرد کتاب ہے ۔ اس کے مصنف مولانا محمد عثمان معروفی علیہ الرحمہ( ولادت: ۴؍ نومبر ۱۹۲۸، وفات: ۶؍ جون ۲۰۰۱ء) اپنے وقت کے ممتاز عالم دین، بہترین ادیب وشاعر ،اچھے مصنف و صحافی اور تاریخ گوئی کے تو امام تھے ۔فن تاریخ گوئی پر ان کی کئی کتابیں ہیں ، ان کی ہر کتاب کا نام تاریخی ہے یعنی اس سے ہجری وعیسوی سن تالیف نکلتا ہے ، جیسے اسی کتاب کا ایک نام ’’کتاب سیرت الرسول ﷺ‘‘ ہے جس سے ہجری سال ۱۴۲۰ھ نکلتا ہے ، اس کا دوسرا نام ’’ ارمغان بہشت ‘‘ ہے ، جس سے عیسوی سال ۱۹۹۹ء بر آمد ہوتا ہے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں سیرت پاک سے متعلق ہر چھوٹے بڑے واقعہ کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ۱۴۴؍ صفحات کی اس کتاب میں مرکزی وذیلی عناوین کی تعداد پونے تین سو کے قریب ہے، اس سے مولانا کی جزرسی اور باریک بینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کتاب کے اخیر میں ازواج مطہرات ، رسول پاک ﷺ کی کنیزیں ، خدام وموالی ، آپ کے اسلحے ، سواریاں ، لباس اور دیگر اشیاء کا بھی اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ مولانا موصوف کو ایجاز نویسی میں غیر معمولی ملکہ حاصل تھا اور یہ کتاب اس کا شہ کار ہے ، انھوں نے اس میں دریا کو کوزے میں سمیٹ دیا ہے ۔

مفتی ظفیر الدین مفتاحی علیہ الرحمہ اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں :

’’ *زیر نظر تالیف کا میں نے جگہ جگہ سے مطالعہ کیا ، ماشاء ا للہ کتاب بڑی محنت سے لکھی گئی ہے ، پوری کتاب حوالہ جات سے مالامال اور سیرت رسول کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے ۔ زبان صاف ستھری ، سلیس اور شیریں ہے ۔ عقیدت ومحبت کے چشمے ایک ایک جملہ سے ابلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور پڑھنے والے پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔(ص: ۱۰)*

کتاب جس پایہ کی ہے اس کے اعتبار سے اسے پذیرائی نہیں حاصل ہوسکی ، اس کی کئی وجوہ ہیں جن میں سے ایک وجہ تو یہ ہے کہ کتاب کا جیسا تعارف ہونا چاہئے تھا نہیں ہوسکا۔ دوسرے یہ کہ کتاب معمولی کاغذ پر غیر معیاری انداز میں چھوٹی سائز پر چھپی ہے، جس میں کسی طرح کی ظاہری جاذبیت اور کشش نہیں ہے،مزید برآں عام طور سے دستیاب بھی نہیں ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہے اسے عصر حاضر کے مذاق کے مطابق کمپیوٹر کتابت اور بہترین طباعت کے ساتھ عمدہ کاغذ پر شائع کیا جائے ۔ مولانا عبد اللہ معروفی مدظلہ استاذ دارالعلوم دیوبند جو مولانا کے انتقال کے بعد ان کی دیگر کتب کی طباعت واشاعت کا اہتمام کررہے ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ اس کتاب کی جانب بھی اپنی عنایت وتوجہ مبذول فرمائیں۔

ضیاء الحق خیرآبادی

۷؍محرم الحرام ۱۴۴۴ھ مطابق ۶؍اگست۲۰۲۲ء سنیچر

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔