سلسلہ تعارف کتب (43): عہد نبوی کے غزوات وسرایا اور شہداء اسلام

*تعارف نگار:مولانا ضیاء الحق خیرآبادی*

*نام کتاب: عہد نبوی کے غزوات وسرایا اور شہداء اسلام* (جلد اول،٥٢٠،دوم:٤٨٤صفحات)

*مصنف : مولانا انوار احمد خیرآبادی*

مولانا انوار احمد صاحب خیرآبادی(ولادت: ١٩٥٧ء) جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڈھ کے قدیم ومقبول استاذ ہیں، وہ درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تحریر وتصنیف کی دنیا میں بھی قدر ومنزلت اورعزت ووقار کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔مولانا موصوف کی ایک درجن سے زائد کتابیں شائع ہوکر قبول عام حاصل کرچکی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب” عہد نبوی کے غزوات وسرایا اور شہدائے اسلام” آج سے تقریباً پندرہ بیس سال قبل شائع ہوئی تھی ، اور چند مہینوں میں اس کا پہلا اڈیشن ختم ہوگیاتھا۔ موضوع کی ندرت و انفرادیت اور اس سے والہانہ جذباتی لگاؤکی وجہ سے شائقین کا اصرار تھا کہ اس کا دوسرا ایڈیشن جلد شائع ہو، مگر مصنف اس پر نظر ثانی اور اضافہ کرنا چاہتے تھے ، جیساکہ وہ لکھتے ہیں:

” *نظر ثانی کے بجائے از سرے نو کام کا آغاز کر دیا گیا اس طرح ایک مستقل کتاب تیار ہو گئی ،پھر وقت اور حالات کے تقاضے کی بناپر اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اصل کتاب سے پہلے جہاد اسلامی کی ضرورت و اہمیت اور شہدائے عظام کے خصوصی فضائل و مناقب بھی بیان کر دئیے جائیں ، اور موجودہ دور میں جہاد اسلامی کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے والوں کے رو برو آئینہ رکھ کر دکھلادیا جائے کہ جہاد اسلامی ، دہشت گردی نہیں بلکہ در حقیقت وہ عالم انسانی کے بقا اور صالح نظام حیات کے لئے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔’* ‘

اس لئے دوسرا ایڈیشن قدرے تاخیر سے ٢٠٠٧ء میں شائع ہوا، مگر یہ دیر آید درست آید کا صحیح مصداق تھا۔پہلا ایڈیشن ٣٢٠ صفحات پر مشتمل تھا اور اضافہ شدہ ایڈیشن ١٠٠٤ صفحات پر۔ گویا کہ یہ ایڈیشن ایک مستقل کتاب ہے۔ مولف نے اس کا نہایت فاضلانہ ومحققانہ ابتدائیہ لکھا جو سوا سو صفحات پر مشتمل ہے ، اور اس لائق ہے کہ اسے الگ سے شائع کردیا جائے۔ اس میں انھوں نے جہاد کی تاریخ، اس کے اقسام، اس کی فضیلت، اس کی ضرورت اور مقصد،پر تفصیل سے بحث کی ہے، اور اس سلسلے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور اعتراضات کا بڑے مثبت انداز میں رد فرمایا ہے۔

ص: ١٥٤ سے اصل کتاب کا آغاز ہوتا ہے، پہلے غزوہ اور سریہ کی تعریف کرنے کے بعد ائمہ مغازی واصحاب سیر کے اقوال کی روشنی میں غزوات کی تعداد متعین کی ہے، اس کے بعد تاریخ وقوع کے اعتبارسے غزوات وسرایا کا ذکر کیا ہے، انداز یہ ہے کہ پہلے غزوہ اور سریہ کی مفصل تاریخ ذکر کرتے ہیں اس کے بعد اس میں شہید ہونے والے اصحاب کا مختصر تذکرہ تاریخ وسیر کے مستند حوالوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ غزوہ احد کے بارے میںمشہور ہے کہ اس میں شہید ہونے والے اصحاب کی تعداد ستر ہے، مولف نے اَسّی شہداء کاذکر کیا ہے اور اس کے بعد لکھتے ہیں:

*تنبیہ:مشہور قول کے مطابق ”غزوۂ احد” میں جام شہادت سے سیراب ہونے والے شہیدان ملت کی تعداد کل ستر ہے ، اور زیر نظر کتاب میں آپ کے سامنے اس تعداد سے دس نام زیادہ آچکے ہیں ،اور ابھی میری فہرست میں تقریبا دس بارہ نام ایسے موجود ہیں جن کے بارے میں متعدد اصحاب سِیَر و تاریخ کا خیال یہ ہے کہ وہ ”غزوہ احد” میں شہید ہوئے ہیں ، اس طرح ”شہداء احد” کی کل تعداد تقریبا نوے بانوے ہوجاتی ہے ، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ واقعتا” شہداء احد” کی اصل تعداد نوے یا بانوے ہے ، بلکہ مؤرخین نے احتیاطا مختلف فیہ ناموں کو بھی شمار کرلیا ہے ، البتہ اس کا امکان ضرور ہے کہ تعداد ستر سے زیادہ ہو ، کیوں کہ اہل عرب ستر کے عدد کو تکثیر کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں* ۔

مولف نے تمام غزوات کا ذکر خاصی تفصیل سے کیا ہے، مگر غزوۂ تبوک کے ذکر میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا نہ ہونا عجیب سا لگتا ہے، اس کی اہمیت تو اس قدر ہے کہ اسے اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرماکر رہتی دنیا تک کے لئے زندۂ جاوید کردیاہے۔

کتاب کا آغاز مصنف کے کلمات تشکر وامتنان سے ہوتا ہے ، اس کے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کے کلمات تقریب وتہنیت ہیں جو بقامت کہتر بہ قیمت بہتر کا صحیح مصداق ہیں ۔ کتاب کا مقدمہ استاذی مولانا اعجاز احمد اعظمی علیہ الرحمہ کے قلم سے ہے ، جس کا عنوان ” جہاد اور شہادت ” ہے ۔ ١٥ صفحات پر مشتمل یہ مقدمہ جہاد اور شہادت پر ایک بہترین تحریر ہے۔مصنف اس علمی خدمت پر ہم سب کے شکرئے کے مستحق ہیں ،کہ انھوں نے ان محسنین اسلام ومحسنین انسانیت کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا جنھوں نے اپنی جان قربان کرکے اسلام کے پیغام کو دنیاکے گوشے گوشے میں پہونچایا، موجودہ دور میں اس سرگزشت کو بار بار پڑھنا ہر مسلمان کے لئے حوصلہ بخش اور مایوسیوں کے اندھیرے میں امید ویقین کی شمع فروزاں ہے۔

کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں،اس کا سب سے آخری ایڈیشن فرید بک ڈپو دہلی سے شائع ہوا ، اور وہیں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ضیاء الحق خیرآبادی

٦ محرم الحرام ١٤٤٤ھ مطابق٥ اگست ٢٠٢٢ء یوم الجمعة

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔