سلسلہ تعارف کتب (42): تہجد گزار بندے

*تعارف نگار:مولانا ضیاء الحق خیرآبادی*

*نام کتاب:تہجد گزار بندے*

*مصنف: مولانا اعجاز احمد اعظمی* علیہ الرحمہ

اس کتاب کا موضوع تہجدگزار بندوں کے حالات کا تذکرہ اور تہجد گزاری وشب بیداری کی فضیلت ہے ۔ اسلام میں پانچ وقت کی فرض نمازوں کے علاوہ ایک اور نماز کی بھی بڑی فضیلت اور تاکیدوارد ہوئی ہے ، اور رسول اﷲ ﷺ نے اس پر فرض کی طرح مواظبت فرمائی ہے ، یہاں تک کہ اگر کبھی چھوٹ گئی تواس کی قضا فرمائی ہے ، وہ نماز ہے تہجد کی نماز، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا گیا کہ فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز کون سی ہے ؟ آپ ا نے فرمایا :

أفضل الصلوٰة بعد المکتوبة الصلوٰة فی جوف اللیل

فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز قیام لیل ( تہجد کی نماز) ہے ۔ ( مسلم شریف)

تہجد کی فضیلت میں ڈھیر ساری احادیث ہیں ۔

اﷲ تعالیٰ نے نماز تہجد کا حکم پہلے اپنے پیغمبر علیہ الصلوٰة والسلام کو دیا ، اس کے بعد ساری امت کو اس کی ترغیب دی ۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یٰااَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلاً۔نِصْفَہ أَوِ نْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً ۔أَوْزِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً(سور ہ مزمل )

اے کپڑوں میں لپٹنے والے ! رات کو ( نماز ) میں کھڑے رہا کرو ، مگر تھوڑی سی رات یعنی نصف رات یا اس سے کسی قدر کم کردو یا نصف سے کچھ بڑھادو ، اور قرآن خوب صاف صاف پڑھو ۔

ان آیات میں براہ راست خطاب رسول اﷲ ا سے ہے ، کہ رات کا ایک حصہ خواہ وہ نصف ہو یا نصف سے کچھ کم وبیش ، اﷲ کی عبادت کے لئے مخصوص ہونا چاہئے ، رسول اﷲا کے لئے یہ تاکیدی حکم ہے ۔ ابتداء اسلام میں یہ قیام فرض تھا ، بعد میں اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔

چنانچہ ہر زمانہ میںصالحین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ عام لوگ جب رات کے آخری حصہ میں خواب شیریں کے مزے لیتے ہیں ، تو اﷲ کے نیک بندے اپنی نیند قربان کرکے اﷲ سے مناجات کرتے ہیں ۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم جو اسلام کے مخاطبینِ اولین اور رسول اﷲ ﷺ کے براہ راست شاگرد تھے ، وہ تواس باب میں بھی پیغمبر ﷺ کے ٹھیک نقش تھے ،تہجد کے ساتھ ان کے شغف کا عالم یہ تھا کہ حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ صبح کے وقت تہجد میں قدرے بلندآواز سے تلاوت قرآن کی وجہ سے مدینہ کی گلیوں میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز آتی تھی ، چنانچہ اس کتاب میں آپ مدینہ کا منظر دیکھیں گے کہ رسول اﷲ ﷺ مسجد میں تشریف لاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر اپنے رب کے حضور مناجات میں مشغول ہیں ، تو کہیں حضرت فاروق اعظم نماز تہجد میں تلاوت قرآن سے شیطان کو بھگا رہے ہیں ، تو کہیں حضرت سالم مولیٰ ابوحذیفہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری اپنے حسن صوت کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی توجہ اپنی جانب مبذول کئے ہوئے ہیں ، تو کہیں حضرت بلال حبشی وصہیب رومی اور سلمان فارسی وابوالدرداء نماز میں مشغول ہیں ، یہ حضرات تو اکابر صحابہ میں سے تھے ، ہم تو دیکھتے ہیں کہ عبادت کایہ ذوق وشوق بچوں میں بھی اس قدر تھا کہ حضرت عبد اﷲ بن عباس جن کی عمر اس وقت دس سال کی تھی اسی شوق عبادت میں ساری رات جاگتے رہے ، کثّر اﷲ أمثالھم

اور یہی ذوق صحابہ کے تلامذہ تابعین اور ان کے تلامذہ تبع تابعین میں رہا مگر جو عمومیت اور ذوق وشوق کی فراوانی صحابہ کرام کے اندر تھی،رفتہ رفتہ اس میں ضعف واضمحلال آتا گیا ۔حضرت عبد اﷲبن عمر کے صاحبزادے حضرت سالم جو فقہائے مدینہ میں شمار ہوتے تھے ، اپنے والد کا ایک قول نقل کرتے ہیں ، انھوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو عبادت گھٹے گی وہ رات کی تہجد ہے ، اور اس میں آواز سے قرأت کرنا ہے ۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مؤلف کتاب لکھتے ہیں :

*سچ فرمایا صحابی ٔ رسول ﷺ نے ، اب تو وہ حال ہے کہ تہجد گویا معدوم ہوگئی ہے ، اور اس میں قرآن کریم کی قدرے آواز سے تلاوت کرنا گویا بالکل ختم ہوچکا ہے، کاش کہ حاملین قرآن یعنی حفاظ وقراء اور علماء بالخصوص اس پر توجہ دیتے اوراپنی راتوں کو تہجد کی نماز اور قرآن کی تلاوت سے مزین اور نورانی بناتے ، حافظوں کی تو یہی پہچان ہونی چاہئے کہ اخیر شب میں وہ اٹھنے والے ہوں ، اس وقت پروردگار کی طرف سے جو التفاتِ خاص ہوتا ہے وہ دوسرے وقت کب ملے گا ۔*

اس تحریر میں لکھنے والے کا درد وکرب صاف محسوس کیا جاسکتا ہے ، اسی مبارک جذبہ سے حضرت الاستاذ علیہ الرحمہ نے ” تہجدگزاربندے ”کا سلسلہ شروع کیا ، جس میں نماز تہجد کی فضیلت واہمیت اور اس سلسلہ میں وارد آیات واحادیث ،اورسلف صالحین کے واقعات جوقیام اللیل کے ساتھ ان کے حددرجہ شغف وانہماک پر دلالت کرتے ہیں ، نہایت دلنشیں انداز میں لکھنا شروع کیا ، یہ تہجد گزار بندوں کا ایک روحانی سلسلہ ہے جو قرن اول سے لے کر دورِ تبع تابعین تک کے بزرگوں پر مشتمل ہے ، اس میں ا ستقصاء مقصود نہیں ہے ، بلکہ انہیں بزرگوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کے تہجد کا تذکرہ تاریخ وسیر کی کتابوں میں موجود ہے ، اس میں بھی یہ ایک انتخاب ہے ، اس کتاب کو اگر ہم محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن الاعظمی کی ”اعیان الحجاج ” کی طرح ایک تاریخی وسوانحی خاکہ کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا ، کیونکہ تہجد کے ضمن میں شخصیت کی ابتدائی وانتہائی زندگی کے مختصر حالات ،تعلیم وتربیت ، مقام ومرتبہ ، ان کی علمی خصوصیات وخدمات ، معاصرین وبعدکے علماء کے درمیان ان کی حیثیت ، سبھی پہلوؤں پر مستند کلام کے ساتھ ساتھ اصل موضوع تہجد گزاری کے واقعات کو اتنے عمدہ پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے کہ دل پر اس کا ایک خاص اثر ہوتا ہے ، اوروں کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اپنا حال یہ ہے کہ جب کبھی اس سلسلہ میں کمزوری محسو س ہوتی ہے تو ان مضامین کو پڑھنا شروع کرتا ہوں ، اﷲجانے ان بزرگوں کی برکت کارفرما ہوتی ہے یا مؤلف کا اخلاص وسوزدروں کہ اس کے بعدعبادت کا ایک ذوق پیدا ہوجاتا ہے ۔

کتاب کا اسلوب یہ ہے کہ پہلے نمازِ تہجد کی فضیلت کے سلسلہ میں جو آیات وارد ہوئی ہیں ، ان کو بیان کرکے ان کی توضیح وتشریح کی گئی ہے ، اس کے بعدوارد شدہ احادیث کاذکر ہے ، پھر واقعات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ، جس کی ابتداء پیشوائے تہجد گزاراں سیدنا محمد رسول اﷲﷺ سے ہوتی ہے ، آپ کے تہجد کا نہایت تفصیل کے ساتھ ذکرکیا گیاہے ، اس کے بعد حضرات انیباء کرام علیھم السلام کا تذکر ہ ہے ، اس کے بعد حضرات صحابہ کرام کا ذکر خیر سیکڑوں صفحات پر محیط ہے ، پھر تابعین اور تبع تابعین کا ذکر ہے ، گویا اس میں اسلام کی ابتدائی دو تین صدی کے بزرگوں کے احوال شامل ہیں ، اﷲ تعالیٰ ہمیں بھی ان بزرگوں اور انفاس قدسیہ کے اسوہ و نمونہ کو حرزِ جان بنانے کی توفیق بخشیں ۔ آمین

کتاب ٤٧٢ صفحات پر مشتمل ہے ،مکتبہ ضیاء الکتب خیرآبادسے شائع ہوئی ہے ۔

ضیاء الحق خیرآبادی

٥ محرم الحرام ١٤٤٤ھ مطابق٤ اگست ٢٠٢٢ء جمعرات

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔