سلسلہ تعارف کتب (41): تذکرۃ القراء

*تعارف نگار:مولانا ضیاء الحق خیرآبادی*

*نام کتاب: تذکرۃ القراء*

*مصنف : ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی*

’’ *تذکرۃ القراء* ‘‘ قراء سبعہ اور ان کے رواۃ کے سوانحی حالات ، قرآنی خدمات ، اور ان کے ایمان افروز دینی وعلمی کارناموں کا مفصل تذکرہ ہے ۔ مصنف نے اس میں دوسری اور تیسری صدی ہجری کے ان ۲۰؍ جلیل القدر قراء کرام کے حالات نہایت تحقیق کے ساتھ جمع کردئیے جو اس فن میں امامت کے منصب پر فائز ہیں۔۱۔پہلا تذکرہ امام نافع بن ابو نعیم مدنی کا ہے ،۲۔ امام عیسیٰ بن مینا قالون مدنی ، ۳۔ امام عثمان بن سعید ورش مصری، ۴۔ امام عبد اللہ بن کثیر مکی ، ۵۔ امام احمد بن محمد بزی ، ۶۔ امام محمد بن عبد الرحمن قنبل مکی ،۷۔ امام ابوعمرو زبان بن العلاء بصری، ۸۔ امام حفص بن عمر دوری ،۹۔ امام صالح بن زیاد سوسی، ۱۰۔ امام عبد اللہ بن عامر شامی ، ۱۱۔ امام ابوولید ہشام بن عمار دمشقی ،۱۲۔ امام ابن ذکوان قرشی ، ۱۳۔ امام عاصم بن ابی النجود کوفی ؒ،۱۴۔ امام ابوبکر بن عیاش اسدی ، ۱۵۔ امام حفص بن سلیمان کوفی ؒ، ۱۶۔ امام حمزہ بن حبیب الزیات کوفی ، ۱۷۔امام خلف بن ہشام بغدادی،۱۸۔ امام خلاد بن خالد کوفی، ۱۹۔ امام علی بن حمزہ کسائی ، ۲۰۔ امام لیث بن خالد بغدادی۔

کتاب کے مصنف معروف ادیب وصاحب قلم ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی ہیں جو ماہر شبلیات کی حیثیت سے علمی دنیا میں معروف ہیں ، اب تو یہی موضوع ان کی پہچان اور شناخت بن چکا ہے ، ایک زمانہ میں فن قرأت وتجوید سے بھی ان کو خاص اشتغال تھا ،ان کی پہلی مطبوعہ کتاب ’’ اسہل التجوید ‘‘ ہے ، جو فن تجوید کے احکام ومسائل پر ایک اہم اور بنیادی کتاب ہے اور بہت سی جگہوں پر داخل نصاب ہے ، میں نے بھی اسے حفظ پڑھنے کے زمانہ میں پڑھا ہے، اسی طرح اس فن میں ان کا ایک رسالہ ’’ علم الترتیل ‘‘ بھی ہے۔

اردو زبان میں ائمہ تجوید قرأت کے حالات بہت کم لکھے گئے ہیں ، ڈاکٹر صاحب کو فن تجوید کے ساتھ مناسبت اور تعلق کی وجہ سے خیال ہوا کہ ائمہ تجوید کے حالات کو تفصیل کے ساتھ سہل انداز میں لکھنا چاہئے ، چنانچہ انھوں نے ان کے حالات کی تلاش وجستجو شروع کی اور اس تلاش وتحقیق کے نتیجہ میں یہ کتاب وجود میں آئی۔کتاب کے اخیر میں دئے گئے مراجع و مصادر سے ان کی محنت وکاوش کا اندازہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

*۔۔۔۔۔۔اردو میں قراء کرام کے ساتھ وہ اعتناء نہیں کیا گیا جس کے اصلاًوہ مستحق تھے۔ چنانچہ انھیں اسباب کی بنا پر احقر نے اپنی کم علمی اور کم مائیگی کے باوجود ان کے مبارک تذکرہ کو اپنا موضوع بنایا اورتفصیل سے قراء سبعہ اور ان کے دو دورواۃ کے حالات زندگی، علمی و دینی خدمات اور امتیازات و کمالات کو مستند کتابوں سے یکجا کر کے علمی وتحقیقی انداز تذکرہ نگاری پر مرتب کیا۔ ان کے حالات کے ساتھ فن قرات کی ترویج واشاعت میں ان کے نمایاں کردار کو خصوصیت سے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فن سے ان کے شغف وانہماک کے واقعات کی روشنی میں ان کے علوئے کمال وقبولیت اور بلند مرتبہ کی نشاندہی بھی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ کتاب صرف قراء کرام کا تذکرہ ہی نہیں ہے بلکہ ان کے عہد کی ایک مختصر تاریخ بھی ہے۔ اس سے جہاں مسلمانوں کی دینی اور دنیوی سعادت وفلاح اور ان کی معراج کمال کا اندازہ ہوتا ہے، وہیں اس دور کے فتنوں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔امید ہے یہ کتاب ہمارے لیے عبرت ونصیحت کا سامان ہوگی۔*

کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۹۶ء میں شائع ہوا تھا ، اس کے بعد ۲۰۱۲ء میں دوسرا ایڈیشن شائع ہوا، اس وقت وہی میرے سامنے ہے ، صفحات ۲۱۶ ہیں۔ میں نے یہ کتاب آج سے بیس سال پہلے پڑھی تھی ، اس موضوع پر یہ پہلی کتاب تھی جو میرے مطالعہ میں آئی ،آج بھی میرے نزدیک اس موضوع پر یہ بہترین کتابوں میں سے ہے۔کتاب کی زبان ، اسلوب نگارش اور حسن ترتیب کے بارے میں کچھ کہنے کے بجائےمصنف کا نام ہی کافی ہے۔

طبع دوم کے بعد مصنف کو خیال ہوا کہ اس کی اس طرح تلخیص کردی جائے کہ یہ ابتدائی درجات کے طلبہ اور عام لوگوں کے لئے بھی مفید ہو،تو انھو ں نے’’ قراء عظام اور ان کی علمی ودینی خدمات ‘‘ کے نام سے اس کی تلخیص کی۔ اس میں انھوں نے اصل کتاب کے علمی وفنی مباحث کو حذف کرکے قراء کی قرآنی خدمات اور ان کے نمایاں دینی وعلمی اور اخلاقی کارناموں کو باقی رکھا ہے، یہ تلخیص ۱۰۴؍ صفحات پر مشتمل ہے۔سن اشاعت ۲۰۱۴ء ہے۔

کتاب مصنف کے اشاعتی ادارہ ’’ ادبی دائرہ ‘‘ اعظم گڑھ اور مکتبہ ضیاء الکتب خیرآباد سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ضیاء الحق خیرآبادی

۴؍محرم الحرام ۱۴۴۴ھ مطابق ۳؍اگست۲۰۲۲ء بدھ

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔