نیو کلیائی تباہ کاری اور عالمی بے حسی

محمد اللہ خلیلی قاسمی

۶/ اگست کا دن یوم انسانیت کے لیے تاریخ عالم کا سیاہ ترین دن ہے، جس دن امریکہ نے بلاضرورت جاپان کے دو جیتے جاگتے شہروں اور ان کے لاکھوں معصوم باشندوں کو ایک آن میں موت کی نیند سلادیا اور جو زندہ رہ گئے ان کو زندگی کے نام سے بھی ہمیشہ کے لیے خائف بنادیا۔
آج نائن الیون (گیارہ ستمبر) کی برسی کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اور ان دہشت گردانہ واقعات کو یاد کرکے دہشت گردی کے خلاف امن پسند دنیا اپنا عزم دہراتی ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے ناسور ہے اور اس کا قلع قمع ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح ہولوکاسٹ کے واقعہ کو افسانوی حیثیت حاصل ہے اور کریہ ترین ظلم و ستم کی مثال میں اس واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب کہ ان دونوں واقعات کے سلسلے میں مختلف تحقیقات کے ذریعہ انکشاف ہوا ہے کہ اول الذکر میں زبردست سازش کار فرما رہی ہے اور دوسرے میں حقائق کو بہت زیادہ مبالغہ آمیزی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور دونوں کی جو شکل عوام الناس کے سامنے پیش کی جاتی ہے، ان دونوں واقعات کی اصل شکل اس سے کافی مختلف ہے۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ نائن الیون واقعی ایک دہشت گردانہ عمل تھا جس کا نشانہ معصوم لوگ بنے، اسی طرح یہودی قوم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ لیکن پوری انسانی تاریخ میں ۶/ اگست کا دن سیاہ ترین دن ہے جس دن انسان نے خود ساختہ ہتھیاروں کا استعمال کرکے ایک آن میں دو لاکھ انسانوں کو موت کی ابدی نیند سلادیا۔
آج سے ساٹھ سال قبل ۶/ اگست ۱۹۴۵ء کی صبح تھی اور 8:15کا وقت جب جاپان کے شہر ہیروشیما پر قیامت برپا ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر امریکہ نے ساٹھ کلو گرام یورانیم کا ایٹمی بم ”لٹل بوائے“ جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرایا۔ پھر اس بے خبر شہر پر کیا گزری، اس کو الفاظ میں بیان کرنا اور اس کی تفصیلات تک رسائی تقریباً ناممکن ہے۔ تاہم جو کچھ بھی حقائق و واقعات سامنے آئے ہیں وہ کسی بھی انسان کو دہلادینے کے لیے کافی ہیں۔ آگ و دھویں کا ایک مشروم کلاؤڈ (چھتری جیسا بادل) اٹھاجس کی بلندی اٹھارہ کلومیٹر (60000فٹ) تھی، اس پر جن کی نگاہیں اٹھیں وہ پگھل گئیں اور ان کے چہرے مسخ ہوگئے۔ پورے شہر میں بھیانک آتشزدگی ہوئی اور درجہٴ حرارت 4000ڈگری تک پہنچ گیا، جس سے لوہے تک پگھل کر پانی کی طرح بہہ گئے اور انسانی لاشیں بھاپ بن کر اڑ گئیں۔ زیادہ دوری پر واقع افراد کی کھالیں ادھڑ گئیں۔شہر کے گیارہ کلو میٹر کے ایریا میں فوراً آگ لگ گئی۔ ہیروشیما کی ستر فیصد بلڈنگیں تباہ ہوگئیں۔ گھروں میں مقید لوگ جل بھن کر خاک ہوگئے۔ لمحوں سکنڈوں میں ستر سے اسی ہزار (ہیروشیما کی آبادی کا تیس فیصد) لوگ مرگئے اور ایک سال کے اندر کل اموات کی تعداد ایک لاکھ چالیس تک پہنچ گئی۔ تین دن کے بعد ۹/ اگست کو امریکہ نے پھر جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی بم گرایا ۔ اس شہر کا بھی وہی حشر ہوا جو ہیروشیما کا ہوچکا تھا اور یہاں بھی اسی ہزار افراد موت کی آغوش میں جا پہنچے۔ بمباری کے بعد جو لوگ بچ گئے وہ بھی زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگے۔ تابکاری کی سمیت اور کینسر سے ہزارہا ہزار لوگ برسوں جوجھتے رہے۔
اس ایٹمی بمباری سے امریکہ کی فوجی بالادستی قائم ہوگئی اور اس کی غیر معمولی ٹیکنالوجیکل حصولیابی کا لوہا مانا گیا۔ اکثر امریکی اس اقدام کا دفاع کرتے ہیں اور انھوں نے اسے لاکھوں افراد کی جان بچانے کا واحد اور ضروری راستہ قرار دیا ہے ، جب کہ متعلقہ تاریخی شواہد اس بات کا انکشاف کرتے ہیں کہ ایٹمی بمباری قطعی غیر ضروری تھی؛ کیوں کہ جاپان خود سپردگی کے لیے تیار تھا۔ 1963میں صدر امریکہ Dwight D. Eisenhower (1890-1969) نے نیوز ویک کو اپنے انٹرویو میں اس کا اعتراف کیا۔ امریکی سائنس داں اور ایٹم بم کے خالق Robert Oppenheimer نے اقرار کیا کہ ایٹمی بم کا استعمال ایک ایسے دشمن کے خلاف کیا گیا جو یقینی طور پر شکست خوردہ ہوچکا تھا۔
جنگ عظیم ثانی کے اختتام کے بعد دیگر ملکوں نے بھی نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی طرف پیش رفت کی۔ امریکہ و روس کے مابین سرد جنگ کے زمانے میں زیادہ سے زیادہ اور مہلک ترین ہتھیار رکھنے کی دوڑ شروع ہوئی۔ اس طرح امریکہ کے بعد روس اور پھر انگلینڈ ، فرانس اور چین نے نیوکلیائی طاقت حاصل کی۔ آج ہندوستان، پاکستان اور نارتھ کوریا بھی اسی صف میں باقاعدہ شامل ہوگئے ہیں۔ اسرائیل کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس نیوکلیائی طاقت موجود ہے، لیکن اسرائیلی حکومت اس کا اعتراف نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جو نیوکلیائی ٹکنالوجی کے حصول کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ابھی میانمار جیسے ملک کے خبر آئی ہے کہ وہ بھی نیوکلیائی طاقت حاصل کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ تقریباً چالیس ممالک کے پاس نیوکلیر ہتھیار کے مواد موجود ہیں۔ آئندہ کچھ برسوں کے دوران ایسے ممالک کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
اس طرح نیوکلیر طاقت رکھنے والے ممالک کے پاس ستر ہزار وارہیڈ موجود ہیں جو دس لاکھ ہیروشیما کو تباہ و برباد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس کرہٴ ارض کو پچاس بار تباہ کرسکتے ہیں۔ بڑے نیوکلیر ہتھیاروں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار ہے جس میں نوے فیصد ہتھیار امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔
پوری دنیا کے ان مہلک ترین اور عام تباہی کے ہتھیاروں کی تیاری اور دیکھ بھال پر روزآنہ کروڑہا کروڑ ڈالر صرف ہورہے ہیں۔ امریکہ نے صرف 2008میں 54بلین ڈالر سے زیادہ کی رقم صرف نیوکلیر ہتھیاروں اور ان کے پروگرامز میں صرف کی۔ نیوکلیر اسلحہ خانوں پر پوری دنیا میں اس وقت کئی ٹریلین ڈالر کا صرفہ آچکا ہے اور آج بھی نیوکلیائی ہتھیاروں کی دیکھ بھال اور تیار رکھنے میں روزآنہ 110ملین ڈالر کا صرفہ آرہا ہے۔ اتنی خطیر رقم اگر انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے استعمال کی جائے تو دنیاکے آج بہت سے بنیادی اور پیچیدہ مسئلے حتی کہ دہشت گردی وغیرہ جیسے مسائل تک حل کیے جاسکتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹمی بم ”لٹل بوائے“ کی طاقت آج کے معمولی جوہری بموں کے مقابلے میں پٹاخہ سے زیادہ نہ تھی۔ اس لٹل بوائے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ دھماکے کے اعتبار سے اس نے کماحقہ نتیجہ نہیں دیا؛ کیوں کہ اس کا ااندرونی جوہری مواد کا صرف 1.38% حصہ کا انشقاق (fission) ہوسکا تھا۔ آج جس طرح کے ہائڈروجن بم ہندوستان و پاکستان جیسے ممالک سے پاس ہیں ان کی طاقت ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم سے ہزاروں گنا زیادہ ہے، یعنی یہ کہ اس سے ہزاروں گنا زیادہ تباہی و بربادی پھیلا سکتے ہیں۔
جوہری ہتھیاروں کی حقیقت یہ ہے کہ ہر ملک اپنے دشمن ملک کو ڈرانے اور جاپان کی ’غلطی‘ سے سبق لینے کے نام پر اس طرف پیش قدمی کی ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ امریکہ نے سب سے پہلے جوہری ہتھیار بناکر دنیا کو غیر محفوظ بنانے اور تباہی کے طرف لے جانے کی سنگین غلطی کی ہے۔ دوسری طرف اس نے جوہری ہتھیار کا پہلی بار بیدردانہ استعمال کرکے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی خطرناک دوڑ کا آغاز کیا ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر جاتی ہے۔
اگر دنیا اسی تباہی کے راستے پر چلتی رہی تو ایک نہ آئندہ بھی ایک نہ ایک دن جوہری ہتھیار ضرور استعمال ہوسکتے ہیں ، خواہ جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر ۔ اس بات کا خدشہ مسلسل کیا جاتا رہا ہے کہ کہیں دہشت گرد وں کو نیوکلیا ئی ٹیکنالوجی ہاتھ نہ آجائے ۔ اور اب خود امریکہ اس بات کی پیشین گوئی کررہاہے کہ ۲۰۱۳ء تک دہشت گردانہ جوہری حملہ کا خطرہے۔
آخر کار بس یہی دو شکلیں سمجھ میں آتی ہیں کہ یا تو نیوکلیائی ہتھیاروں سے دنیا کو پاک کردیا جائے یا پھر دنیا نیوکلیائی ہتھیاروں سے فنا کے گھاٹ اتر نے کو تیار ہو جائے۔

2011

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔