قادیانیت : ایک فتنہٴ ارتداد

محمد اللہ قاسمی


اس کارگہ عالم میں خالق کائنات کی یہ سنت رہی ہے کہ اس نے نور کے ساتھ ظلمت ، بلندی کے ساتھ پستی اور اچھائی کے ساتھ برائی کو بھی وجود بخشا ہے تاکہ نور کی تابناکی، بلندی کی اوج اور اچھائی کی فضیلت نمایاں طور پر سامنے آئے ۔ اسی سنت الہیہ کے مطابق خالق کائنات نے ہدایت کے ساتھ ضلالت کو بھی مختلف روپ اور بھانت بھانت کی شکلوں میں ظہور پذیر ہونے کا موقع فراہم کیا تاکہ دیدہ و بینا افرادکے لیے ہدایت و ضلالت میں فرق و امتیاز کرنا اور ہدایت کا راستہ اختیار کرنے میں آسانی ہو۔
حق و باطل کی یہ کشمکش اس عالم خاکی کے وجود سے جاری رہی۔ چنانچہ ظہور اسلام کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور متبعین اسلام کو کفر و شرک کے علم برداروں کی طرف سے طرح طرح کی آزمائشوں اور کشمکشوں کا سامنا رہا۔ طاغوتی و ابلیسی لشکروں نے کبھی اندرونی اور کبھی بیرونی یلغاریں کیں اور اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزمائے۔ اسود عنسی نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نبوت کا دعوی کیا، چناں چہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے ذریعہ اس فتنہ کا سر قلم کردیا۔ کچھ ہی دنوں کے بعد مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی پیش کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمام خلافت سنبھالنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ مسیلمہ اور اس کی جماعت کا قلع قمع کرنے کے لیے سیف من سیوف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں لشکر اسلام روانہ فرمایا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق پوری تاریخ اسلامی میں نبوت کے ایسے متعدد جھوٹے دعویدار پیدا ہوتے رہے۔ برصغیر ہند میں پیدا ہونے والے فتنہٴ قادیانیت کے بانی مبانی مرزا غلام احمد قادیانی اسی منحوس سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ مرزا جی ۱۸۴۰ء میں قصبہ قادیان ضلع گورداسپور (پنجاب) میں پیدا ہوئے ۔ یہ وہ وقت تھاجب ہندوستان میں سلطنت اسلامیہ اپنی آخری سانس لے رہی تھی اور ملت اسلامیہ ایک خوفناک اور مہلک صورت حال سے دوچار ہونے والی تھی۔ ۱۸۵۷ء میں برطانوی استعمار کے خلاف ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں کی کوشش ناکام ہوگئی۔ اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے دل شکست کے صدمے سے دوچار اور برطانوی انتقامی کارروائیوں کا راست نشانہ تھے۔ اسلام دشمن طاقتوں کی جانب سے مسلم علماء، مدارس و معاہد اور اسلامی ثقافت و تہذیب پر متواتر حملے شروع کر دیے گئے ۔ انگریزی سلطنت نے نئی تہذیب و ثقافت کی توسیع و اشاعت کاکام شروع کردیا اور ہندوستان کے گوشے گوشے میں عیسائی پادری مسیحیت کی دعوت و تبلیغ میں سرگرم ہوگئے۔ ان حالات میں مرزا قادیانی اپنی نئی دعوت و تحریک کے ساتھ منظر عام پر آئے اور برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری و اخلاص کو اپنے بنیادی عقائد اور مقاصد میں شامل کیا۔
بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں مرزائیت یا قادیانیت مذہب اسلام سے کوئی علیحدہ تحریک نہیں بلکہ مذہب اسلام ہی کی ایک شاخ اور دیگر اسلامی فرقوں کی طرح ایک اسلامی فرقہ ہے۔ ایسا تصور بالکل غلط ہے اور یہ غلط فہمی سراسر اصول اسلام سے لاعلمی و بے خبری پر مبنی ہے۔ قادیانیت اور مذہب اسلام کے درمیان عقائد کے بنیادی اختلافات ہیں ۔ ان اختلافات کے پیش نظر قادیانیت محض کوئی اسلامی فرقہ یا جماعت نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایک متوازی نظام ہے جو اسلام کے بنیادی عقائد کے ساتھ کھلی بغاوت اور ارتدادی فتنہ ہے۔
قادیانیت اور اسلام میں پہلا فرق یہ ہے کہ مسلمانوں کے نبی و رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جب کہ قادیانیوں کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ اسی طرح تمام مسلمانوں کا اجماعی و متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ، نبوت و رسالت کا سلسلہ آپ پر بند ہے، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ عقیدہ قرآن، احادیث متواترہ ، صحابہ و تابعین اور جمہور امت کے اجماع سے ثابت ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین اس عقیدہ کے خلاف ہیں۔ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اخروی نجات کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا کافی ہے، جب کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ نجات کا دار و مدار مرزا غلام احمد پر ایمان لانے پر ہے اور جو مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لائے وہ کافر اور ابدی جہنم کا مستحق ہے۔ علاوہ ازیں مرزا کا یہ دعوی ہے کہ قرآن کریم کی وہی تفسیر معتبر ہے جو وہ خود کرے اگرچہ وہ تمام احادیث متواترہ اور صحابہ و تابعین کے خلاف ہو۔ مرزائی جماعت کے نزدیک مرزا کا کلام بھی قرآن کی طرح معجزہ ہے اور مرزا صاحب کی وحی پر ایمان لانا ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ قرآن پر ایمان لانا۔ مرزا قادیانی کا حکم ہے جو حدیث میری وحی کے موافق نہ ہو اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔ مرزا صاحب کے مطابق ان کی آمد کے بعد جہاد شرعی منسوخ ہوگیا ، انگریزوں کی اطاعت اولوالامر کی اطاعت ہے اور ان کے خلاف جہاد حرام قطعی ہے۔ غرضے کہ ایسے اسلام مخالف عقائدو خیالات، قرآن و حدیث کی سراسر خلاف ورزی، انبیاء و اسلاف کی توہین و تذلیل اور مختلف قسم کی نبوت کے دعاوی کا ایک طویل سلسلہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔
اسی بنیاد پر تمام دنیا کے مسلمانوں کا اجماعی فیصلہ ہے کہ قادیانیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ ایک منصوبہ بند فتنہٴ ارتداد ہے۔ رابطہٴ عالم مکة المکرمہ زادہا اللہ شرفاً کے تحت جملہ ممالک اسلامیہ کے علماء نے اس متفقہ موقف پر مہر تصدیق ثبت کی ، حتی کہ متعدد اسلامی ممالک نے قانون کے ذریعہ ان احمدیوں اورمرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ قادیانیت برطانوی سامراج کی آغوش شفقت میں پلنے بڑھنے والی جماعت ہے۔ اسلام مخالف ملکوں اور قوموں سے ہمیشہ اس کے قریبی تعلقات رہے۔ حد یہ ہے کہ ہندوستان میں آزادی کے بعد سے انھوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر بھی اپنے آقاؤں کے زیر سایہ اسرائیل و برطانیہ منتقل کرلیا ہے جہاں ان کا لیڈر داد عیش دیتا ہے۔
قادیانی تحریک ، اسلام کے دینی و سماجی نظام کے مقابلے میں ایک نیا دینی و سماجی نظام پیش کرتی ہے۔ وہ اپنے پیرؤوں کو جدید نبوت، جدید مرکز محبت و عقیدت، نئی دعوت، نئے روحانی مرکز ، نئے مذہبی شعائر، نئے مقتدا، نئے اکابر اور نئی شخصیتیں عطا کرتی ہے۔غرضیکہ قلب و دماغ اور فکر و اعتقاد کا نیا مرکز قائم کرتی ہے۔یہ وہی چیز ہے جو اس کو ایک فرقہ سے ہٹ کر ایک مستقل مذہب اور نظام زندگی کی شکل فراہم کرتی ہے۔ لیکن قادیانیوں کی دریدہ دہنی اور اخلاق باختگی کا یہ عالم ہے کہ وہ یہ سب کچھ اسلام کے لیبل اور نام کے ساتھ کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ انھیں مسلمان تصور کیا جائے۔ بلا شبہ قادیانیت دور حاضر کا ایک سنگین ترین فتنہٴ ارتداد ہے، جس کا مذہبی و دینی ، سیاسی و سماجی اور علمی و تحقیقی ہر سطح پر مقاطعہ و مقابلہ کیا جانا چاہیے تاکہ اسلام وایمان کے ان قزاقوں اور دین و یقین کے ان لٹیروں کا کریہہ چہرہ پوری قوم کے سامنے آجائے اور قوم ان کے دجل و تلبیس کی حقیقت کو سمجھ سکے:
بدل کے بھیس زمانے میں پھرتے آتے ہیں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات

2013

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔