سلسلہ تعارف کتب (4): یہ تھےاکابر مظاہر

*تعارف نگار:ضیاءالحق خیرآبادی*

*نام کتاب: یہ تھےاکابر مظاہر*

مولف:مولانا ناصر الدین مظاہری (استاذ جامعہ مظاہر علوم وقف)

’’یہ تھے اکابر مظاہر ‘‘ اُن قدسی صفات بزرگوں کے حالات وواقعات کا مجموعہ ہے جو اس دور اخیر میں اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ تھے ۔اِس کتاب کی تالیف کا واقعہ بڑا حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے ،کیا کسی کو گمان ہوسکتا تھا کہ موبائل پر شروع کیا جانے والا ایک سلسلۂ مضمون کسی روز ایک دلچسپ کتاب کی صورت اختیار کر جائے گا، جبکہ آج کے دورمیں سب سے زیادہ وقت کو ضائع کرنے والی اور دل ودماغ کا کباڑا کرنے والی جو چیز ہے وہ یہی موبائل ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اسی ’’شر‘‘ کے ذریعہ یہ’’ خیر ‘‘وجود میں آگیا۔

مولانا ناصر الدین مظاہری (ولادت: یکم جنوری ۱۹۷۴ء) جو ایک جواں سال اورقلم کے دھنی نوجوان ہیں ، انھیں ان کے بعض بزرگوں اور دوستوں نے مکلف کیا کہ وہ ’’علم وکتاب‘‘واٹس اپ گروپ میں علماء مظاہر کے واقعات لکھیں، تعمیل حکم میں انھوں نے بغیر کسی تکلف کے اپنے حافظہ کی مدد سے قلم برداشتہ یہ حالات وواقعات لکھنے شروع کئے ۔اُن انفاس قدسیہ کے یہ واقعات تعلیم وتربیت ، معاملات ومعاشرت ، ورع وتقویٰ ، اخلاص وللہیت اورخوف خدا واتباع سنت ہر نوع سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اِسے اُن بزرگوںکی برکت ونسبت اور لکھنے والے کا اخلاص ہی کہا جائے گا کہ اس سلسلہ کو غیر معمولی قبول عام حاصل ہوا، ہر قسط کے بعد اگلی قسط کا مطالبہ ا ُن سے ہوتا رہا ، یہاں تک کہ ۷۰؍ سے زیادہ بزرگوں کے حالات وواقعات قید تحریر میں آگئے، جس میں بانیین مظاہر مولانا سعادت علی صاحب،مولانا محمد مظہر صاحب،مولانا احمد علی محدث سہارنپوری سے لے کر ماضی قریب کے بزرگ مولانا محمد یونس صاحب شیخ الحدیث،مولانا محمد طلحہ صاحب اور مولانا محمد اطہر صاحب وغیرہ شامل ہیں۔

دوران تحریر ہی اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا مطالبہ بھی ہونے لگا، چنانچہ ماہنامہ النخیل کراچی کے معاون مدیر مولانا بشارت نواز نے اس میں پہل کی اور اسے مکتبہ تراث الادب سے شائع کیا اور وہا ں یہ مجموعہ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ ماہ( مئی ۲۰۲۲ء) ہندوستان میں مکتبہ الانور دیوبند نے شائع کیا۔

کتاب کے مصنف مولانا ناصرالدین مظاہری کا قلم کا بڑا شگفتہ اور رواں دواں ہے ، متعدد کتابیں ان کے قلم سے نکل کر اہل علم سے خراجِ تحسین حاصل کرچکی ہیں ۔ مولانا مظاہر علوم وقف کے فاضل ہیں ، ۱۹۹۵ء میں فضیلت اور ۱۹۹۶ء میں افتاء کی تکمیل کی ۔ ۱۹۹۷ء میں مظاہر علوم وقف میں ان کا تقرر ہوگیا ۔جہاں وہ تدریسی خدمات کے ساتھ آئینہ مظاہرعلوم کی ادارت کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔

کتاب ۳۱۲؍ صفحات پر مشتمل ہے اور مکتبہ الانور دیوبندسے طلب کی جاسکتی ہے۔

ضیاء الحق خیرآبادی

۲۶؍ ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷؍ جون ۲۰۲۲ء دوشنبہ

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔