تعارف دیوبندیت اور اکابر دیوبند کی خصو صیات

بیان: امیر ملت،قافلہ سالارِ امت حضرت مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم
(مہتمم و محدث دارالعلوم دیوبند)
بمو قع تشریف آوری کھمریا ضلع بھدوہی بتاریخ ۲۰/اکتوبر ۲۰۱۳ء بروز اتوار

باہتمام :
جناب مولانا مفتی سہیل اختر قاسمی ناظم مدرسہ امدادالعلوم کھمریا

ناقل ومرتب:
لعبد محمد عرفان الحق غفرلہ ا لمظاہر ی فتوحہ ہنو مان گنج الہ آباد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونومن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیاٰت اعمالنا من یہدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشہد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشہد ان سیدنا ومولانا محمدًا عبدہ ورسولہ صلی اللہ تبارک وتعالی علیہ وعلی الہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا اما بعد فقد قال رسول اللہﷺ ذاق طعم الایمان من رضی باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد ﷺ رسولا ونبیا ، او کما قال رسول اللہ ﷺ۔
میر ے محترم بزرگو!،نوجوان دوستو!اور عزیز بچو!
جیسا کہ ابھی عزیز گرامی مولانا سہیل اختر قاسمی نے آپ کے سامنے اپنے محبت نامے میں اس بات کا اظہار کیا کہ میری کھمریا میں یہ حاضری پہلی بار نہیں ہو ئی ہے ، اس سے پہلے اس مسجد میں بھی بیان ہو چکا ہے اور مدرسہ امدادالعلوم میں بھی حاضری ہو ئی ہے لیکن یہ ضرور ایک نئی چیز ہے کہ اس مرتبہ حاضری کے موقع پر میرے کمزور کاندھوں پر ایک بڑی ذمہ دا ری کا بوجھ لدا ہو ا ہے جس میں میری اہلیت اور صلاحیت کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ دارالعلو م دیو بند کے ارکان ِشوریٰ اوراکابر کی نظر محبت اور ان کا اظہار اعتماد ہے ،لیکن ہرقدم پراس کاخو ف ساتھ میں لگا رہتا ہے کہ خدا نخواستہ اپنی نا تجربہ کاری یا اپنی کسی چوک کی بناء پر بزرگوں کی اس عظیم امانت دارالعلوم دیو بند کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہ ہو جائے کوئی کمی نہ ہو جائے ،آپ حضرات دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے صحیح طریقہ پر خدمت کی توفیق عطا فرمائیں ۔اللہ تعالیٰ کی مدد اس کی نصر ت بڑوں کی دعائیں اور ان کی توجّہات شامل حال رہیں گی تو انشاء اللہ تعالی زندگی کے جو ایام با قی رہ گئے ہیں ان میں اس خدمت کی انجام دہی بھی ہوتی رہے گی اوراسوقت آپکی جانب سے یا کہیں بھی حاضری کے موقع پر لوگوں کی طرف سے جس محبت کا اظہار ہو تا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ ساری محبت میری ذات کے لئے نہیں بلکہ اسی نسبت کی بنا پرہوتی ہے جو اکابر کی امانت دارالعلوم دیوبند کے ساتھ اس نا کارہ کو حاصل ہے دارالعلوم دیوبند اس ملک کے اندر گزشتہ ڈیڑھ صدی سے مسلمانوں کی دینی ،عملی ،اصلاحی قیادت کا کام انجام دے رہا ہے ۔ہم لوگ تو بہت بعد کے لوگ ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دارالعلو م کے جو با نیان گرامی تھے جنہو ں نے دارالعلوم کی بنیادرکھی ،ان کااخلاص ،ان کے دل کی تڑپ ،ان کی راتوں کی گریہ وزاری ان چیزوں کی برکت ہے کہ اللہ تعالی نے اس گئے گزرے دور میں اور مخالفتوں کی ان آندھیوں میں اس چراغ کو باقی رکھا ہے جس کی روشنی چاروں طرف پھیل رہی ہے ، حضرت حاجی امداداللہ صاحب مہاجر مکّی صاحب ،حضرت مولانا محمّد قاسم صاحب نانوتوی ، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ،حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب عثمانی ،حضرت مولاناذوالفقار احمد صاحب دیوبندی، حضرت حاجی عابد حسین صاحب دیوبندی اور اکابر کی ایک جماعت تھی جنہو ں نے اس وقت جب کہ ملک پر انگریزوں کامکمل تسلط ہو چکا تھا اور انگریز اپنے ساتھ مغربی تہذیب ،عیسائیت کی تبلیغ او ر سامراجیت کا مزاج لے کر اس ملک کے چپّے چپّے پر قابض ہو چکے تھے اور ان کا یہ منصوبہ تھا جس کا انھون نے اعلان بھی کر دیا تھا کہ اس ملک کو عیسائی اسٹیٹ بنانا ہے۔نظام تعلیم کو یکسر انھوں نے تبدیل کر ڈالا یہاں کی تاریخ کو مسخ کر دیااور چونکہ اقتدار انھوں نے مسلمانوں سے چھینا تھا ۔ مغل امپائر کو شکست دے کر اس کے تاروپود کو بکھیر کر اپنی عیاری اور مکاری سے انھوں نے لال قلعے پر قبضہ کیا تھا اس لئے ان کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں اس خاکستر کی کوئی چنگار ی پھر شعلہ بن کر ہمارے خرمن ِاقتدار کو نذر ِ آتش نہ کر دے اس لیے ظلم وستم اور صبر واستبداد کے جتنے ہتھیار تھے ان کے پاس ان سب کو انھوں نے مسلمانوں ا ور خاص طور پر دیندار طبقے کے خلاف استعمال کیا ۔دلّی کے لال قلعہ سے لیکر فتحپور ی مسجد تک پورا چاند نی چوک کا راستہ علماء اور دیندار لوگوں کی لاشوں کا گویا پھانسی گھر بنا ہواتھااور دونوں جانب درختوں پر علماء کی لاشیں لٹکی ہوئی تھیں ۔ہزاروں علماء تہ تیغ کئے گئے۔کتنوں کو انڈمان کے جزیرے میں قید کیا گیا ۔توپ کے دہانے پر باندھ کر گولوں کی طرح ان کو اڑا دیا گیا ،بدن کے چیتھڑے کر دیئے گئے ۔تمام دینی درسگا ہیں مسمار کر دی گئیں ۔خانقاہوں کو ویران کر دیا گیا، گویا دین کو ختم کرنے کی جتنی تدبیریں ہو سکتی تھیں ان سب کو اختیار کیا اور اعلان کر دیا کہ اب اس ملک کے اندر ایسا نظام تعلیم نا فذ کریں گے کہ جن کو پڑھ کر تعلیم یافتہ حضرات اپنے جسم اور اپنے خون کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہوں گے لیکن اپنے ذہن اوراپنے فکر کے اعتبار سے وہ پورے طور پر عیسائی ہوں گے ۔لوگوں کے دل ودماغ پر عیسائیوں کا ،حکومت کا اور ان کی مشینریوں کا ایسا ہوّا سوار تھا کہ ان کے خلاف ایک لفظ زبان سے نکالنا اپنی موت کو دعوت دینا تھا ۔۱۸۵۷ئئمیں جب ا نگر یزوں کے سا تھ مزاحمت کی آخر ی کوشش بھی ناکام ہو گئی شاملی کے میدان میں اور دیگررزم گاہوں میں ،ہندوستانی مجاہدین پسپا ہو گئے اور انگریزوں کو مکمل اقتدار حاصل ہو گیا تو اب فوجی مزاحمت کی اور طاقت کے ذریعے مقابلہ کرنے کی راہیں بندہو گئیں۔انگریزطاقت میں بھی تھے حکومت بھی انھیں کی تھی دولت بھی ان کے پاس تھی عیسائی مشینریاں یورپ سے سیلاب کی طرح ہندوستان آرہی تھیں اس کے علاوہ بھی تمام حربے ان کے پاس تھے ۔ادھر مسلمان سمیت پوری ہندوستانی قوم غلام بنائی جا چکی تھی ۔ ایسے ماحول میں مسلما نو ں کے سامنے ،اور خا ص طو ر پرعلماء کرام کے سامنے دو چیزیں تھیں ،ایک تو ملک کو انگریز وں کی غلامی سے آزاد کرانا،اور اس سے زیادہ اہم تھا ا پنے مذہب ،اپنے دین،اپنی تہذیب اوراپنی ثقافت کو محفوظ رکھنااور اگلی نسلوں تک ان کو منتقل کرنا، کیوں؟اس لیے کہ مقا بلے میں وہ قوم تھی جو ہر طرح کی طاقت وقوت سے لیس تھی اور وہ یہ عزم کرچکی تھی کہ اس ملک کو آہستہ آہستہ عیسائی اسٹیٹ بنانا ہے اور مسلمانوں کے سامنے غر نا طہ ،اسپین اور قرطبہ کی تاریخ موجود تھی جہاں اندلس میں مسلمانوں کی عظیم الشان آٹھ سو سالہ حکومت ختم ہونے کے بعد اس طرح سے وہاں سے اسلام رخصت ہوا کہ آج بھی قر طبہ کی جامع مسجد کے اندر کوئی دورکعت نماز نہیں پڑھ سکتا ۔وہ میوزیم بنی ہوئی ہے ،وہاں اللہ کا نام لینا جرم ہے ۔پورے ملک میں یہی حال ہے ۔اقتدار گیا تو اس کے سا تھ دین بھی گیا ،کہیں خدانخواستہ ہندوستان سمیت اس پورے برصغیر کے اندر وہ تاریخ نہ دہرائی جائے اس لیے کیا راستہ اختیار کیاجائے ۔اس کے لئے دعائیں بھی کیں ،مشورے بھی کئے او رطے یہ ہوا کہ آزاددینی تعلیم کے اداروں کا جال بچھا دیا جائے پورے ملک میں جو مسلمان اپنی گاڑھی کمائی سے دو دو پیسے چار چار پیسے کے چندے کر کے چلائیں اور ا پنے بچوں کو تعلیم دیں ،مفت تعلیم کا نظام چلایا جائے اورکسی بھی طر ح کی سرکاری امداد قبول نہ کی جائے ۔اس سلسلے کا سب سے پہلا ادارہ ۱۵محرم الحرام ۱۲۸۳ھء۳۱مئی۱۸۶۶ئئکو دیوبندکی سر زمین میں مسجدچھتہ کے اندر انار کے درخت کے نیجے ایک استاذ اور ایک شاگرد کے ذریعے شروع کیا گیا۔
ملا محمود استاد کا نام تھا اور محمو دالحسن اس بچے کانام تھا ۔یہی بچہ جو دارالعلوم د یو بندکا پہلا طالب علم ہے آگے چل کر شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندی بنا۔جنھوں نے ریشمی ر ومال تحریک چلائی اور انگریزوں کے اقتدارکو ختم کرنے کے لئے وہ منصوبہ تشکیل دیا کہ جوبڑے بڑ ے سورماوٴں کے ذہن کے اندر بھی نہیںآ سکتاتھا۔پہلی جلا وطن حکومت قائم کی ۔کابل میں اس کا صدر مقام بنایا اورراجہ مہیندر پرتاپ سنگھ کو اس کا وزیر اعظم منتخب کیا یہ طے کرلیا کہ اگرتنہا مسلمان اس لڑائی کو لڑتے ہیں تو کامیابی مشکل ہوگی ۔اس لئے تمام باشندگانِ ملک کو اس کے اندر شامل کیا گیا ۔کالی بھیڑیں ہر جگہ پہنچ جاتی ہیں کچھ اپنوں کی غلط روش اور کچھ انگریزوں کی سازش کی بناپر وہ تحریک نا کا م ہو گئی مولانامحمو دالحسن صاحب شیخ الہند رحمة اللہ علیہ اوران کے رفقاء مو لانا حسین احمد صاحب مد نی اورمولاناعزیرگل وغیرہ مکہ مکرمہ سے گرفتار کر کے مالٹا کے قید خانے میں پہنچا دیئے گئے اور وہ تحریک ختم ہو گئی لیکن پھر اس کے بعد ان کے تلامذہ نے مولاناحسین احمدصاحب مدنی ‘مفتی کفایت اللہ صاحب شاہ جہاں پوری ‘مفتی احمد سعید صاحب سحبان الہند اور دیگر علماء مولانا عبدالباری فرنگی محلی وغیرہ نے اس تحریک کو اٹھایا اور آخرکار ۱۹۴۷ئئکے اندر ملک آزادہوا ۔
دارالعلوم دیوبندنے دو کام کئے ۔ایک طرف جذبات حرّیت سے سر شار مجاہدین تیار کئے او ردوسری طرف اپنے دین اپنے مذہب اور مذہبی علوم کے حامل علماء کی ایک جماعت تیار کی اور پھر دارالعلوم کے قیام کے فوراً بعد گلاوٹھی مرادا باد سہارن پور علاقوں کے اندر مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا اور دیکھتے دیکھتے پورے ملک میں مساجد اور مدارس کا ایک جال بچھ گیا۔ کرنے والی ذات تو اللہ کی ہے ۔حقیقی نظام اسی کا چلتا ہے لیکن ظاہر اسباب کے اندر اگر کہا جائے تو انگریزوں کے اقتدار کے بعد اس ملک میں دین اور دینی علوم کے تحفظ میں سب سے بنیا دی کرداران مدارس کے قیام کارہا ہے یہ بہت بڑا احسان ہے ان اکابر کا آج ہماری یہ داڑھی ‘ٹوپی والی شکلیں اور قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں ‘مسجدوں کی آبادی ‘قرآن وحدیث کی تعلیم ‘یہ انھیں کے فکر وں کی مرہون ِ منت ہے اگر انھوں نے یہ پودے نہ لگائے ہوتے یہ کوشش نہ کی ہوتی تومعلوم نہیں کہ ہمارا انجام غرناطہ والا ہوتا یا سوویت یونین میں جو کمیونزم کے قیام کے بعد اورکمیونسٹ حکو مت کے قیام کے بعد جو شکلیں پیش آئیں ان جیسا ہو تا۔چونکہ اس نسبت کا یہاں تعارف کرایا گیا ہے اسی لئے میں یہ چاہتاہو ں کہ اکابر دیوبند کی خصوصیات کیا ہیں ہم کیوں اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اس نسبت کا تقاضا کیاہے تھوڑی سی روشنی اس پر بھی ڈالدوں۔ دیوبندیت کوئی الگ مسلک نہیں ہے ۔کوئی الگ مذہب ہیں ہے ۔کوئی الگ جماعت نہیں ہے بلکہ توحید،سنت ،عشق نبی اور احسان وسلوک اورظاہر وباطن کی اصلاح ہی کانام دیوبندیت ہے ۔ اور ان کو ہمارے اکابر کی زندگی میں دیکھا جاسکتاہے جو ہمارے سرخیل تھے ہمارے سربراہ تھے ہمارے پیشوا تھے جن کی طرف منسوب ہو کر ہم اپنے آپکودیوبندی کہتے ہیں ان کی زندگی ہی ہمارے لئے آئینہ ہے ان کی زندگی میں کیاچیز تھی؟
سب سے پہلی چیز توحید خالص ‘ایک اللہ کی ذات کے اوپر ایمان اس کے علم وقدرت کے اوپرایمان بغیر کسی شرکت کے پورے کائنا ت کے نظام کا تنہا مالک اللہ ہے جو کچھ ہوتا ہے صرف اسی کے فیصلے سے ہوتا ہے کوئی بڑاسے بڑا ولی کوئی بڑا سے بڑا نبی کوئی بڑاسے بڑا محبوب بندہ بھی اللہ تعا لی کی مرضیات میں اس کی مرضی کے خلاف دخیل نہیں وہ عزت عطا فرمائے وہ سفارش قبول فرمائے وہ دعائیں قبول فرمائیں یہ اللہ کا کرم ہے ۔لیکن لاالہ الااللہ جب ہم پڑھتے ہیں تو پوری جامعیت کے ساتھ جس طریقے سے اللہ معبود ہونے میں تنہا ہے عبادت کے اندر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا جا سکتا ۔اللہ تعالی اپنی تمام صفات خصوصی میں بھی تنہاہے۔اپنے علم میں بھی وہ تنہا ہے اس کے جیسا علم کسی کانہیں اپنی قدرت میں بھی وہ تنہا ہے وہ تنہا خالق ہے وہ تنہا مالک ہے وہ تنہا رازق ہے وہ تنہا عزت دینے والا وہ تنہا ذلت دینے والا وہ تنہا کامیابی عطا کرنے والا وہ تنہاناکامی دینے والا وہ تنہازندگی کا مالک وہ تنہا مو ت کا مالک اس کی کسی صفت کے اندر ادنی درجے میں کوئی شریک نہیں لاالہ الااللہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ سجد ہ تو اللہ کاکریں گے باقی خدائی کو بانٹتے پھریں گے تقسیم کرتے پھریں گے یہ کوئی تو حید نہیں ہے سب سے پہلی چیز تو حید خالص ۔اس کے بعد کلمے کا دوسراجزء محمد رسول اللہ حضرت محمد رصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔کائنات ارض وسما میں اللہ کی ذات کے بعد جو سب سے بزرگ وبرتر ہستی ہے وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ‘ان کی عظمت ،ان کی بزرگی ان کے مقام بلند کا ہم انداز ہ ہی نہیں کر سکتے اس فرق کے ساتھ کہ اللہ اللہ ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ ورسولہ ہیں ۔اللہ کے بندے اوراس کے رسو ل ہیں خدائی میں کوئی شرکت نہیں ہیں لیکن بندگی کے فرد اعلی ہیں۔بندگی کما ل ہے بند گی کو ئی نہیں ہے اللہ تعا لی نے قر آن پا ک کے اند راپنے انبیاء علیہم الصلوةوالسلا م کا جہا ں تعا رف کرا یا ہے۔انہ من عبادنا المرسلین انہ من عبادنا المخلصین ‘کہیں ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے کہیں اسماعیل علیہ السلام کا تذکرہ ہے کہیں کسی اورنبی کا تذکرہ ہے انہ کان عبداًشکوراًوہ شکرگزار بندے تھے سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی پا ک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ خاص کو لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک یہ معراج کابیان ہے توعبدیت ایک اعزاز ہے اللہ کا بندہ بن جانا بہت بڑا اعزاز ہے اس لئے اس فر ق کو بہر حال رکھنا ہے کہ اللہ تعالی الہ ہیں معبود برحق ہیں خالق ومالک ہیں وہ اپنی تمام صفات میں تنہا ہیں مخلوق میں جو سب کے سب اللہ کے بندے ہیں سب سے بلند وبالا ذات ،سب سے بڑی عظمت والی ذات،سب سے زیادہ قابل احترام ہستی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کی ذاتی خصوصیات ،انکے ذاتی اوصاف،ان کے ذاتی کمالات بھی تمام لوگوں سے بڑھ کر ہیں ،علم میں ،مخلوق میں جتناعلم آپ کی شان کے مناسب ،شان نبوت کے مناسب آپ کو عطاکیاگیا کائنات میں کسی کو نہیں دیا گیاآپ فرماتے ہیں اوتیت علم الاولین والاٰخرین مجھے اولین وآخر ین کاعلم دیا گیا ہے تمام انبیاء علیہم الصلوة والسلام کے علوم ایک طرف اور آپ کا علم ایک طرف،مگریہ علم وہ ہے جو شان نبوت کے لئے مناسب تھا ،نبی ہونے کی حیثیت سے ،ہادی عالم ہونے کی حیثیت سے جن چیز وں کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں ،اللہ تعالیٰ کی معرفت کے سلسلے میں ،آخرت کے سلسلے میں جو علوم رسو ل اللہ ﷺ کو عطا کئے گئے اس کا پا سنگ بھی کسی بڑے سے بڑے صاحب علم کے پاس نہیں ہو سکتا ۔اس کا ایک ذرہ بھی جسکو مل گیا وہ اعلم الناس بن گیاآپکے علم کاکوئی ٹھکانہ نہیں ،اسی طریقے سے عبدیت کے اندر جو کمال آپ کوحاصل ہے ہمارا ایمان ہے کہ رسو ل اللہ چﷺ کا ایک سجدہ ،او رپوری دنیا کے اول سے لے کر آخر تک قیامت تک تمام عبادت گذاروں کے زندگی بھر کی عبادت کو اگر تولا جا ئے تو آپ کا ایک سجدہ ساری دنیا کے ساری عبادتوں سے بھاری ہو جائیگا ۔یہ شان ہے آپکی عبدیت کی ا ور آپ کے عبادت کی ۔
اسی طرح سے آپ کے اخلاق ،انک لعلیٰ خلق عظیم،قرآن گواہی دیتاہے کہ آپ سب سے عظیم اخلاق کے اوپر فائز ہیں ۔
یہ آپ کی اوصاف ہیں ،آپ کے کمالات ہیں ،آپ کے اخلاق عظیمہ ہیں ،آپ کی محبت کو جز وایمان قرار دیا گیا او رمحبت بھی عا م درجے کی نہیں بلکہ سب سے اوپر ،لایو من احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوٴں ،والدین سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاوٴں ،اولا د سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاوٴں اور تما م لوگوں سے زیادہ میری محبت جب تک تمہارے دل میں غالب نہ آجا ئے اس وقت تک تم مومن نہیں ہو سکتے ۔آپکی محبت تمام محبتوں کے اوپر غا لب ہو یہ شرط ایمان ہے ۔اس محبت میں جتنی کمی ہوگی اتنا ایمان ناقص ہوگا ،اس محبت میں جتنی کمی ہو گی اتنا ایمان کمزو ر ہوگا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو بلا شبہ تمام انسا نوں میں سب سے عظیم امتی تھے ۔رسول الہ ﷺ کے بعد مقام ہے صدیق اکبر ر ضی اللہ عنہ کا ،پھرحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا ۔پھر حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ کا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ،پھر عشرہ مبشرہ میں سے جوچھ حضرا ت ہیں ،حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ،حضر ت عبدالرحمن بن عو ف ،حضرت ز بیر بن عوّام ،حضر ت طلحہ بن عبید اللہ ،حضر ت سعد بن وقا ص ،حضر ت سعید بن زید بن عمر و بن نفیل ،یہ دس حضر ات چا ر خلفا ء را شد ین او ر چھ یہ ،عشر ہ مبشرہ کہلا تے ہیں امت میں سب سے او پر مقا م ان دس کا ہے اور ان دس کے اند رخلفا ء را شد ین جو چا رعلی التر تیب ہیں ان کا مقا م ہے پھران کے بعد اصحا بِ بد ر ہیں ،پھر ان کے بعد اصحا بِ احد ہیں ، پھر ان کے بعد اصحا بِ بیعتِ رضو ان ہیں ،پھر ان کے بعد اصحا بِ فتح مکّہ ہیں پھر تما م صحا بہ کرا م رضی اللہ تعا لیٰ عنہم ہیں یہ مقا م جو ان کو ملا ہے کس بنا ء پر؟ر سو ل اللہ ﷺکے سا تھ تعلق او ر محبت اور آ پکا اتبا ع جس در جہ کا ہے اسی در جہ کا ان کا ا یما ن ہے اسی در جہ کا ان کا مقا م ہے جو محبت حضر ت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو رسو ل اللہ ﷺکے سا تھ تھی اور جس درجہ کا اتبا ع ان کو نصیب ہو اان کے علا وہ کسی کو نہیں ملاپھر ان کے بعد یہی چیز حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کو ،پھر ان کے بعدیہی چیز حضر ت عثما ن رضی اللہ عنہ کو ،پھر ان کے بعد یہی چیز حضر ت علی رضی اللہ عنہ کو اور پھر علی التر تیب صحا بہ کر ام رضی اللہ تعا لیٰ عنہم کا جو مقا م ہے ان کو یہ چیز حا صل ہے پھر ان کو رسو ل اللہ ﷺکی صحبت ملی ،صحبت یعنی صحا بی ہو نے کا شر ف اتنا او نچا شر ف ہے اہلسنت و الجما عت کا یہ عقید ہ ہے اور ہم الحمد لله اہلسنت و الجما عت ہیں ہما را یہ عقید ہ ہے کہ اد نیٰ سے ادنیٰ در جے کا صحا بی اور دو سر ی طر ف امت کا بڑے سے بڑا ولی اس صحا بی کے مقا م کو نہیں پا سکتا ۔
ایک بز ر گ سے جو ا ئمہ میں سے تھے کسی شخص نے یہ پو چھا کہ بتا ئیے کہ حضر ت معا و یہ رضی اللہ عنہ کا مقا م ز یا دہ بلند ہے یا عمر بن عبد العز یز رحمة اللہ علیہ کا حضر ت عمر بن عبد العز یز رحمةاللہ علیہ تا بعین میں ہیں بڑ ے او نچے مقا م کے بز رگ گذ رے ہیں جن کو پا نچو ا ں خلیفئہ را شد کہا جا تا ہے،خلفا ء را شد ین کے اند ا ز میں انہوں نے خلا فت کی ہے ان بز رگ نے کہا کیا کہہ رہے ہو؟جس گھو ڑے پر سو ا ر ہو کر حضر ت معا ویہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺکے سا تھ راہِ خدا میں جہا د کیا ہے اس گھو ڑے کی نا ک کے اندرجو خا ک پہنچی ہے وہ حضر ت عمر بن عبد العز یز سے کہیں ز یا د ہ افضل ہے تم کہتے ہو معاویہبڑ ھ کر ہیں کہ عمر بن عبد العز یز بڑ ھ کر ہیں؟صحا بیت کا مقا م صحا بہ کے علا وہ کسی کو نہیں ملا ہے ایک نظر ایما ن کے سا تھ جن کی پڑ گئی رخِ انو ر پر محمد ر سو ل اللہ ﷺکے او ر ایما ن پر ان کا خا تمہ ہوا وہ صحا بی ہو گئے اور صحا بی ہو جا نے کے بعدپھر ہر طر ح کی تنقید اور ہر طر ح کے اعتر اض سے وہ با لا تر ہیں اہلسنت والجماعت کے نز د یک،ہما رے اکا بر کے نز د یک صحا بہ کرا م رضی اللہ تعا لیٰ عنہم پر تنقید کر نے وا لا ا پنے ایما ن کو غا رت کر رہا ہے کیو نکہ رسو ل اللہ ﷺنے فر ما یا ، اللہ اللہ فی اصحا بی لا تتّخذو ھم غر ضاََ من بعد ی فمن أحبّھم فبحبّی أحبّھم ومن أبغضھم فببغضی أبغضھم، خطبہ جمعہ میں کبھی کبھی آپ بھی سنتے ہو ں گے یہ حد یث ہے رسو ل اللہ ﷺفر ما تے ہیں لو گوں :میر ے صحا بہ کے با رے میں اللہ سے ڈر تے رہنا، اللہ سے ڈر تے رہنا،فمن احبّہم فبحبّی احبّہم جو میرے صحا بہ سے محبت رکھتا ہے وہ میرے سا تھ محبت کی بنا ء پر ان سے محبت رکھتا ہے چو نکہ اسے مجھ سے محبت ہے اس لیے میر ے صحا بہ سے محبت ہے، ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے سا تھ بغض ر کھنے کی بنا ء پر ان سے بغض رکھتا ہے،لہذ ا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی شخص کو ر سو ل اللہ ﷺسے محبت ہو اور صحا بہ میں سے کسی ایک کے با رے میں ا س کے دل کے ا ند ر کد و ر ت پا ئی جا ئے ان کے با رے میں کھٹک پید ا ہو او ر ان کے سا تھ بغض ہو کیو نکہ حضو ر نے فر ما د یاکہ جو صحا بہ کے سا تھ محبت رکھتا ہے اس کو میرے سا تھ محبت ہے ،ا س لئے ان سے محبت رکھتا ہے وہ کیاہیں ؟ان کی نسبت یہ ہے کہ وہ میرے صحابی ہیں ،میرے ساتھی ہیں تو میرے ساتھی کے ساتھ محبت اس لیے ہے کہ وہ میرے ساتھی ہیں پہلے میری محبت ہو گی تب ان کی محبت ہو گی۔
میرے صحابہ کے ساتھ اگر کسی کو بغض ہے تو پہلے میرے ساتھ اسکو بغض ہو گا تب ان کے ساتھ بغض ہوگا ۔
تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ مقام جو ملا ہے وہ اس لیے ملا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کو اعلیٰ درجے کی محبت تھی ، آپ کی سنت کے اعلیٰ درجے کے وہ پیروکارتھے اور آپکے اتباع کو سب سے زیا دہ اہم اور ضروری سمجھا کرتے تھے ۔ہما رے اکا بر کی خصوصیات میں نمبر ایک پر توحید خالص ہے ،اورنمبر دوپر اتباع رسول اور محبت رسول ،محبت رسول کا تقاضاہے اتباع سنت ۔محبت کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟جسکے ساتھ ہمیں محبت ہوگی اس کے طریقے سے ہمیں محبت نہیں ہوگی ؟یہ تو خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرما یا ہے آپنے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو خطاب کرکے فرمایا ،یابنیّ ان استطعت اَن تُصبحَ وتُمسِیَ وَلیس فِی قلبک غِشٌّ لِا حدٍ فافعل ،یابُنیّ ذلک من سنتی ومن احب سنتی فقد اَحبّنی ومن احبّنی کان مَعِیَ فی الجنةاو کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،ارشاد فرما یا کہ اے بیٹے ۔چونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے دس سال حضور کی خدمت میں رہے ہیں۔دس سال کی عمر میں حضورکی خدمت میں پہنچے ہیں اور دس سال جو مدینہ طیبہ کی زندگی ہے پوری مدت خدمت کی ہے۔ حضور کی وفات کے وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر بیس سال کی تھی ۔بیشماراحادیث کے راوی ہیں ،سفر وحضر میں حضورکے ساتھ رہے ہیں آپ بھی انکے ساتھ بڑ ی شفقت کا معا ملہ فرما تے تھے۔تو بڑے پیارسے خطاب فرمایا۔یا بُنّی!اے میرے عزیز بیٹے ! اِن استطعت یا اِن قدرت ان تصبح وتمسی ولیس الخ اگرتمہا رے بس میں یہ بات ہو کہ تم صبح وشام اس حا ل میں کرو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کینہ نہ ہو،کسی کی طرف سے کدورت نہ ہو ،تو ایسا ضرورکرلینا ۔صبح بھی اس حال میں ہو کہ دل ہر ایک کی طرف سے صاف ہو اورشام بھی اس حال میں ہو کہ دل ہر ایک کی طرف سے صاف ہو پھر فرمایا یابنیَّ ذلک من سنتی۔بیٹے یہ میری سنت ہے ۔یہ میرا طریقہ ہے ۔میں اپنا دل ہر ایک کی طرف سے صاف رکھتا ہوں ۔میرے دل میں کسی کی طرف سے کدورت نہیں رہتی ۔پھر فرما یا من احب سنتی فقد احبنی ، جو میری سنت سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے ۔ ، ومن احبنی کان معی فی الجنة،اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ میرے ساتھ جنت میں جائیگا ۔جنت میں جانیکا راستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت‘اور محبت کا معیا ر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا اتباع‘اس لیے محبت اوراطاعت یہ دونوں لا زم وملزوم ہیں جسکو جس سے محبت ہوگی اس کی چال چلیگا اسکی نقل کریگا #اسکا اتباع کریگا ۔اسکی اطاعت کریگا،
تعصی الالٰہ وانت تظہر حبہّ
ھذا محال فی القیاس بدیع
لو کان حُبُکّ صا دقا ً لَاَ طعتَہ
ان المحب لمن یحب یطیع
‘شاعر کہتا ہے اللہ کی نا فرما نی کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اللہ سے مجھے محبت ہے ۔یہ تو عقل وقیاس کے اعتبار سے بالکل محال ہے اگر تمہاری محبت سچی ہوتی توتم اللہ کی اطاعت کرتے کیونکہ جس کوجس سے محبت ہوتی ہے وہ اسکی اطاعت کرتاہے اسکی فرمانبرداری کرتا ہے۔یہی حال محبتِ الٰہی کاہے ‘یہی حال محبت ِرسول کاہے ۔اللہ سے محبت ہے تو اللہ کے احکام پر عمل کرنا ہوگا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے تو آپکے احکام پر آپکے طریقے اورآپکی سنت پر عمل کرنا ہوگا۔یہی پہچان ہے اوریہی ہمارے اکابر کا شعارہے۔اسی چیز نے ہم کو ان کا دیوانہ بنا یا ہے۔ہماری انکے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے انھوں نے ہمیں کوئی جائیداد نہیں دی ہے انھوں نے ہمار ے ساتھ کوئی دنیاوی سلوک نہیں کیا ہی۔ان کی دینداری‘ان کی عظمت‘ان کی محبت رسول‘ان کا اتبا عِ سنت‘ یہی وہ چیز ہے جس نے پوری ملت کو ان کا دیوانہ اور گر ویدہ بنا رکھا ہے تودیوبندیت کا مطلب کیا ہوا‘ ہماری توحید توحیدِ کامل ہو‘محبت رسول اعلی درجہ کی ہو۔گستاخی رسول اور رسول اللہﷺ کی توہین کاتصور بھی نہیں ہے۔ اسکے ساتھ کوئی مسلمان رہ سکتاہے؟ حضورکی شان میں گستاخی کرے وہ مسلمان رہے؟بدبخت ہیں وہ لوگ!جواکا بر دیوبند کی طرف گستاخی کا الزام منسوب کرتے ہیں گستاخی کا الزام لگاتے ہیں ان کے اوپر‘ان کی کتا بوں کی عبارتوں میں کاٹ چھانٹ کر کے غلط مطلب پہناکران کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہ عبارتیں جن کا ہزاروں مرتبہ جوا ب دیا جا چکا ہے کتنی کتابیں ان کے بارے میں چھپ چکیں ۔لیکن جس نے طے کر رکھا ہے کہ نہیں ہمیں تو اپنا کام کر نا ہے ۔ہمیں تو اپنی رٹ لگائے رکھنی ہے تو اس کاکوئی حل نہیں ہے اور ان کا منہ بند کرنے کا کوئی طریقہ ہمارے پاس نہیں ہے ۔ہمارے اکابر دیوبند کی زندگی کیا تھی؟مختصر وقت کے اندر میں زیادہ تفصیل آپکے سامنے بیان نہیں کرسکتا۔ایک ایک بزرگ کی پوری پوری زندگی محبتِ رسول کی آئینہ دار ہے۔ہر عمل کے اندر ان کی نگاہ اسی بات پر ہوتی تھی کہ ہما را یہ عمل سنت کے خلاف نہ ہو‘صرف ایک واقعہ نقل کرتا ہوں۔
مولانارشید احمد گنگوہی جنکی کتاب فتاویٰ رشیدیہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے با نیوں میں ہیں۔اللہ تعا لیٰ نے ان کو علم بھی بے پنا ہ عطافرما یاتھا اور تصوف کے بھی امام تھے۔احسان وسلوک کے امام تھے۔ان کے فیض یافتہ لوگوں کے ذریعہ سے الحمد للہ آج خانقاہیںآ باد ہیں۔ مولانا خلیل احمد صا حبانبیٹھوی انھیں کے خلیفہ تھے۔اوران کے خلیفہ مولانا محمدزکر یا صاحب سہارنپوری‘اوران کے خلفاء میں بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے۔مولانا عبد الجبار صا حب اعظمی مرادآبادی‘مولانا عبد الحلیم صا حب گورینی‘مولانا مفتی محمود صا حب گنگوہی‘ اور ان حضرات کے جو مرید ین اور خلفاء ہیں آج الحمد للہ ہندوستان،پاکستان‘بنگلادیش،ساوٴتھ افریقہ‘ کناڈا‘لندن اور فرانس وغیرہ میں ان کی خا نقا ہیں چل رہی ہیں۔خانقا ہیں آباد ہیں۔ تو حضرت مولانا گنگوہی رحمة اللہ علیہ جامع شریعت و طریقت بزرگ تھے اور اللہ نے ان کے وقت میں عجیب برکت عطا فرما ئی تھی۔علماء جانتے ہیں کہ فاضل کے کورس کا جو آخری سال ہو تا ہے درس نظا می میں جسکو دورہٴ حدیث کہتے ہیں اسکو سات آٹھ علماء مل کر پورے سال پڑھاتے ہیں تب صحا ح ستہ کی تکمیل ہو تی ہے۔ بخاری‘ مسلم‘ تر مذی ،ابو داوٴد ،نسائی ،ابن ماجہ ،شمائل ترمذی،طحاوی،موٴطا امام مالک،موٴطا امام محمد یہ کتابیں سا ل بھرمیں پو ری ہو تی ہیں کئی کئی ا سا تذ ہ مل کر پڑھا تے ہیں لیکن مو لا نا گنگو ہی رحمةاللہ علیہ دورئہ حدیث کی تما م کتا بیں تنہا پڑہاتے تھے اور ایک سا ل میں دورئہ حدیث مکمل کر ا دیتے تھے یہ بر کت تھی ان کے علم کی ان کے شا گر دوں میںآ خری کھیپ حضرت مو لانا الیا س صا حب با نی تبلیغ اور ان کے بڑے بھا ئی مو لا نا یحيٰ صا حب کی ہے جومولانامحمدزکر یا صا حب کے والدہیں سب سے آخر ی دورہ ان لو گو ں نے پڑ ھا ہے ۔خا نقا ہ بھی تھی وہا ں متعلقین بھی آتے اور جا تے اور رہتے تھے۔ایک مر تبہ ایک عا لم مو لا نا کے یہاںآ ئے مہما ن کے طو ر پراور تین دن قیا م کیا،اس کے بعد وہ رخصت ہو نے لگے انھوں نے کچھ بتلا یا نہیں کہ ہم کس لئے آ ئے تھے،کچھ پو چھابھی نہیں مولانانے کو ئی با ت بھی نہیں کی جب وہ جا نے لگے تب مو لا نا گنگو ہی رحمة اللہ علیہ نے فر ما یا کہ بھا ئی آپ مہما ن تھے اگر آپ کو ئی تکلیف پہنچی ہو تو معاف کر یں اور اگر منا سب سمجھیں تو یہ بھی بتا دیں کہ آپ کس مقصد کے لئے آئے تھے اس لئے کہ آپ سے کو ئی گفتگو نہیں ہو ئی وہ کہنے لگے کہ میر ا ارادہ بیعت ہو نے کا ہے اور میں ملک کے مختلف اکا بر کے پا س جا رہا ہوں چند رو ز ان کے پا س قیا م کر تا ہو ں،ان کو قر یب سے دیکھتا ہوں،ان کے معمو لا ت کو دیکھتا ہوں، جب کسی ایک کی طرف میرا میلان ہو جائیگا مناسبت ہو جائیگی توان سے بیعت ہو جاؤنگا اسی مقصد سے آپکے یہاں بھی آیا تھا ۔مولانا نے فرمایاتو کیاہوا؟کہنے لگے میں نے آپ کی کو ئی کرامت نہیں دیکھی ۔مولانا نے فرمایا ٹھیک ہے ۔لیکن میری بھی ایک بات کا آپ جواب دیدیں۔آپ ماشاء اللہ عالم ہیں اور آئے تھے میرا جائزہ لینے کے لئے پرکھنے کے لئے ‘عموماًمیرے یہاں جوآنے والے ہوتے ہیں یاتومیرے تلا مذہ ہوتے ہیں یا میرے مریدین ہوتے ہیں۔ان کی نگاہ میرے عیوب پر نہیں پڑتی وہ محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اور آپ آئے تھے جائزہ لینے کیلئے, محبت کی نگاہ تو عیب کو بھی چھپا دیتی ہے آپ چونکہ نہ تلامذہ میں سے ہیں نہ مریدین میں سے ہیں ۔اور آپ آئے تھے جائزہ لینے کیلئے ,اور آپ نے تین دن کا وقت یہاں گزارا ہے اس لیے میری ایک درخواست ہے کہ ان تین دنوں کے قیام کے دوران اپنے علم کی روشنی میں آپ بتائیے کہ میرا کو ئی عمل اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف دیکھی ہو تو اسکی نشاندہی کردیجئے تاکہ میں اسکی اصلاح کرلوں,کچھ دیر تک وہ عا لم گردن جھکائے رہے اسکے بعد کہتے ہیں۔نہیں مولانا!میں نے آپکا کوئی عمل سنت کے خلاف نہیں دیکھا ‘میں نے بہت غورسے جائزہ لیا ہے سوچتے رہے ہر عمل کے اندرسنت کا کامل اتباع میں نے دیکھا آپ کے عمل میں۔مولانا نے فرمایا۔اللہ تیرا شکرہے۔ مجھے کسی کرامت کی تمنا نہیں ہے ۔بس اللہ تعالی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر جینے اور مرنے کی توفیق عطافرمائے یہ تو ایک نمونہ میں نے آپکے سامنے رکھاہے اسی اتباع ِسنت کا مظہر تھے ہمارے تمام اکابر۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی,مولانا رشیداحمد گنگوہی ‘مولانا اشرف علی تھانوی حاجی امداداللہ صاحب مہاجر مکی ہوں مولانا حسین احمدمدنی ہوں شیخ الہندمولانا محمودالحسن صاحب دیوبندی ہوں یا بعد کے لوگوں میں زندہ ہمارے اکابر ہوں سب نے اسی کو معیا ر بنایا ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی سنت ہماری زندگی کے اندرزندہ ہو ہاں جن لوگوں کے خیالات اور جن کی خواہشات سے انکا عمل ٹکراتا ہے ان کو اعتراض بھی ہوتا ہے ان کو تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن ہمارے بزرگوں کو نہ کسی کے اعتراض کی پرواہ ہے نہ کسی کی تنقید کی پرواہ ہے ان کو تو یہ دیکھنا ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اوراپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کی توفیق عطا فرما ئے ، اکا بردیوبند کی خصوصیات میں تیسری چیز،ظاہر کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی اصلاح کی فکر ہے ، جسکو احسان وسلوک کہتے ہیں ، یہ چیز بھی ہما رے اکابر میں ابتدا ء سے رہی ہے اورآج تک ہے ۔جسکو عام زبان میں تصوف کہا جاتا ہے ،لیکن تصوف نے آج ایک الگ پہچان بنالی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ شریعت اورچیز ہے اور طریقت اورچیز ہے۔یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔طریقت کے معنی راستہ ،شریعت پر چلنے کا جو راستہ ہے اللہ تک پہنچانے کا جو راستہ ہے اسی کانام طریقت ہے ۔یعنی اپنے باطن کی اصلاح ،انسان کا ایک جسم ہے اور اسکی ایک روح ہے ۔جس طرح جسمانی بیماریاں ہوتی ہیں اسی طرح روحانی بیماریاں بھی ہوتی ہیں ۔
اوریہ وہ بیماریاں ہیں کہ جو جہنم میں پہنچا نے والی ہیں۔مثال کے طور پر،تکبر ! اپنے آپ کو بڑا سمجھنا یہ روح کی سب سے بڑی بیما ری ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس شخص کے دل کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگاوہ جنت میں نہیں جائیگا ۔یہ دل کی بیما ری ہے۔اس بیماری کو دورکر نے کی ضرورت ہے ۔حب جاہ ،حبّ مال۔
دل کی بیماری ہے۔مال کی ناجائز محبت اپنے عزت وشرف کی محبت دل کی بیماری ہے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشا دفرماتے ہیں:(ماذِئبَانِ جاَئِعَانِ اُرسلافی غنم بافسدلھا)
فرمایا کہ دو بھوکے بھیڑئیے اگر کسی بکری کے ریو ڑ کے اوپرآزادجھوڑ دئیے جائیں تو وہ دونوں بھوکے بھیڑئیے ان بکریوں کو جو نقصا ن پہنچا ئیں گے‘ چیر پھاڑکریں گے‘ ہلاک کریں گے ‘اتنا نقصا ن نہیں پہنچا ئیں گے جتنا حبّ ِجاہ اور حبِّ مال سے ایما ن کو اور دین کو نقصان پہنچتا ہے ․آپ تصوّر کیجئیے کہ بکریو ں کا ایک ریوڑ ہے جہاں کو ئی چروا ہا نہیں ہے اور دو بھیڑئیے جو فطری طور پرمویشیوں کے دشمن ہو تے ہیں اوراوپر سے وہ بھو کے بھی ہیں ․ ان کو اگر آزا د چھو ڑ دیا جاے تو اس ریوڑمیں وہ کیا تبا ہی مچائیں گے ایک کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ․فرما یا کہ وہ دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں جو تبا ہی مچائیں گے وہ اتنی نہیں ہوگی جتنی مال کی محبت اور جاہ و شرف کی محبت آ دمی کے دین کو نقصا ن پہنچاتی ہے تو یہ حبّ ِ جاہ اور حبّ مال جو دل کی بیما ری ہے اسکی ضرو رت ہے کہ اسکی اصلاح کی جائے ․اسی طر ح طمع ‘حر ص یہ آدمی کو گنا ہوں پر آما دہ کرتی ہے ‘ وارث کا حصہ دبا نے پر آمادہ کرتی ہے ‘چوری پر آمادہ کرتی ہے ‘اسکی وجہ سے حلا ل و حرام کے درمیا ن فرق ختم ہو جا تا ہے آدمی کو مال حاصل ہو نا چاہئیے چاہے جائز طریقہ سے ہو یا نا جائز طریقہ سے ہو ․ ایسے ہی غیبت کی عا دت ہے‘ جھوٹ بو لنے کی عادت ہے ‘چوری کرنے کی عادت ہے ‘ نشہ کرنے کی عادت ہے بدکا ری کی عادت ہے یہ ساری کی ساری روحانی بیما ریاں ہیں ․ان بیماریوں کا علا ج مشائخ کرتے ہیں ․اکابر کرتے ہیں ․صوفیاء کرتے ہیں ․اور اسی کا نام ہے احسان و سلوک اور اسی کا نام ہے تصوّف جس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ اللہ سے ہمارا تعلّق مضبوط ہو ․اللہ کی معرفت نصیب ہو گناہوں سے نجات ملے اسکے لئے خانقاہوں کا نظام ہے ․الحمدللہ ہمارے اکابر اس سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں حاجی امداداللہ صاحب مہاجر مکّی اس سلسلے کے جدّاعلیٰ ہیں انہیں کے خلفاء میں سے ہیں مولانا محمد قاسم نانوتوی ‘ انہی کے خلیفہ ہیں مولانا رشید احمد گنگوہی ‘ انہی کے خلیفہ ہیں مولانا اشرف علی تھانوی ․ پھر مولانا رشیداحمدگنگوہی کے خلیفہ مولانا حسین احمدمدنی مولاناخلیل احمدصاحب سہارنپوری آج الحمدللہ سلسلہ حسینی بھی چل رہا ہے اور سلسلہ خلیلی بھی چل رہا ہے ‘سلسلہ تھانوی بھی چل رہا ہے ان تمام سلسلوں کی خانقاہیں قائم ہیں ․اور اصلاح و تربیت کا کام انجام دے رہی ہیں ․ہمارے یہاں وہ خشکی نہیں ہے جو بعض جما عتوں کے اندر ہے کہ تصوّف کے نام سے بدکتے ہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ تصوّف کے نام سے عرس و چادراورگاگر اور ڈھو ل وتاشے نہیں ہیں ہمارے یہاں․ہمارے یہاں تصوّف کا مطلب ہے اپنے باطن کی اصلاح کرنا ․ذکر اور مراقبے اور اسی طریقہ سے اسکے جو معمو لا ت ہیں جسطرح ڈاکٹر جسمانی بیماری کیلئے علاج تجویز کرتا ہے ‘ اسی طرح یہ اکابریہ مشائخ روحانی بیماریوں کیلئے علاج تجویز کرتے ہیں جس میں کچھ اذکار ہوتے ہیں‘کچھ مراقبے ہوتے ہیں‘کچھ معمولات ہوتے ہیں جس کے ذریعہ سے ان بیماریوں کو دبایا جاتا ہے اور ان کو ختم کیا جاتا ہے یہ مختصر سا تعارف ہوا اکابر دیوبند کا۔
پھر سب کے بعد یہ جو علم کا سرمایہ رسول اللہ ﷺ سے چلا ہے اس علم دین کو زندہ رکھا جا ئے دین کی بنیا دی تعلیم سے ہر بچےّ کو آراستہ کیا جائے ہر بچہ قرآن پڑھنے والا ہو‘اس کا عقیدہ صحیح ہو ‘ اللہ کے بارے میں‘ اللہ کے رسول ﷺکے با رے میں ‘تقدیر کے با رے میں ‘فرشتوں کے بارے میں ‘ رسولو ں کے بارے میں ‘آسمانی کتابو ں کے بارے میں‘آخرت کے بارے میں بنیا دی عقیدہ جسکاجا ننا جس پرایما ن رکھنا مسلما ن ہو نے کیلئے ضروری ہے ہر بچہ اس سے واقف ہو ‘قرآن صحّت کے ساتھ پڑھنا جانتا ہو ‘ اردو زبا ن کم سے کم اتنی پڑھ لے کہ آسا نی کے سا تھ دینی کتا بوں کا مطا لعہ کر سکے جس میں ہما رے تما م د ینی سر ما ئے محفو ظ ہیں،ر سو ل اللہﷺنے ار شا د فر ما یا طلب العلم فر یضةعلیٰ کلّ مسلم ،کہ علم کا حا صل کر ناہر مسلما ن کے او پر فر ض ہے اس لئے اتنا علم سیکھنا تو ہر ایک کے لئے ضر و ری ہے جس سے اسکی نما ز صحیح ہو جا ئے،پا کی کا طر یقہ سیکھ لے،او ر حلا ل و حر ام کو جا ن لے،قر آن پڑ ھ لے،اس کا عقید ہ در ست ہو جا ئے:تو جو ہما رے مدار س ہیں مکا تب ہیں یہ بھی ہما رے بز ر گو ں کے مشن کا ایک حصّہ ہے اس کے بعد اگر عا لم بنا یا ، حا فظ بنا یا،قا ری بنایا بہت اچھا کیا:نو ر آپ کے گھرمیںآ ئیگاآپ کے لئے بھی اور آپکی اگلی نسلو ں کے لئے بھی دیند ا ری کے بقا کا ضا من بنے گا اسکی بر کت بھی آئیگی لیکن اگر آگے کی تعلیم نہیں دلا سکتے یا کسی اور لائن میں لیجا نا چا ہتے ہیں تو بنیا د کم سے کم ہر بچّے کی مضبو ط ہو جا نی چائہے یہ بھی ہما رے بز ر گو ں کے مشن کا ایک حصّہ ہیتو میر ے بھائی: میں نے با ت یہا ں سے شر و ع کی تھی کہ جس نسبت کی بنیا د پر آپ ا پنی محبت کا اظہا ر کر رہے ہیں اور جس نسبت کو ہم آپ سب ا پنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ہیں اس نسبت کے جو تقا ضے ہیں ان کو بھی سمجھیں ان کو بھی اپنا ئیں اور ان پر عمل کر نے کی کو شش کر یں جس میں عمل کے لا ئن سے آپ اگر دیکھیں تو سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ نما ز سو فیصد ہما رے معا شر ے میں ز ند ہ ہو نی چا ہئے،ابھی میں نے اپنی مسجد میں جمعہ کے دن یہی مضمو ن بیا ن کیا تھا کہ یہ عید الا ضحی کا مو قع ہے قر با نی کی جا تی ہے،حجا ز مقدّس میں لو گ حج ادا کر تے ہیں اور یہ سا رے اعما ل حضر ت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خا نوا دے حضرت اسما عیل علیہ السلام،حضر ت ہا جر ہ کے اعمال اور ان کی قر با نیو ں کی یا د گا ر ہیں قر با نی بھی اور حج کے اکثر اعما ل بھی،تو جس طر یقے سے قربا نی اور حج ان کی یا د گا رہے اسی طر یقے سے یہ نما ز بھی بہت اہم عبا دت ہے یہ بھی ان کی یا گا ر ہے:حضر ت ابرا ہیم علیہ السلا م نے اللہ سے دعا کی تھی ربّنا اِنّی اَسکنت من ذرّ یتی بو اد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربّنا لیقیمو الصلوة:اے اللہ میں نے اپنی او لاد کو اپنے بیو ی بچے کو اس بے آب و گیا ہ وادی یعنی مکہ کی سر ز مین میں لا کر جو آبا د کیا ہے یہا ں نہ کو ئی گھا س ہے نہ تنکا ،نہ پیڑ،نہ پو دے نہ کو ئی چشمہ،تو کس لئے کیا ہے تا کہ یہ نما ز قا ئم کر یں:و ہا ں اللہ کا گھر تعمیر ہو جس کو آ گے چل کر با پ بیٹے نے بنا یا یعنی خا نہ کعبہ کی تعمیر کی نما ز قا ئم کر نے کے لئے یہا ں لا کر ان کومیں نے بسایاہے :اتنی بڑ ی قر با نی دی ہے اللہ کے حکم سے دی ہے لیکن مقصد کیا ہے کہ یہ جگہ آبا دہو یہا ں اللہ کا گھر تعمیر ہو وہ قبلہ بنے او ر پو ری دنیا کے مسلما ن اس کی طرف منھ کر کے نما ز ادا کر یں آ گے خو د دعا فر ما تے ہیں:ربّ اجعلنی مقیم الصلو ة و من ذرّیتی، اے اللہ مجھ کو بھی نما ز کو قا ئم کر نے والا بنادے او ر میر ی ذر یت میں بھی نما ز قا ئم کر نے وا لا بنا دے: ربّنا وتقبل دعاء اے ہما رے رب ہما ری دعا کو قبو ل فر ما لے اسی طر ح حضر ت اسماعیل علیہ الصلو ة و السلا م کا تعا رف اللہ نے قر آ ن پا ک میں کیا فر ما یا و اذ کر فی الکتا ب اسمٰعیل انّہ کا ن صا دق الو عد وکا ن رسو لاََ نبیّاََ و کا ن یأ مر اھلہ با الصلوة و الزکوة و کا ن عند ربّہ مرضیّا،کتا ب میں اسما عیل کا تذ کر ہ کیجئے و ہ بڑ ے وعدے کے سچّے تھے،رسو ل تھے ،نبی تھے،ٍ و کا ن یأ مر أہلہ با لصلوة او ر ا پنے گھر وا لو ں کو نما ز کا حکم دیا کر تے تھے ،ان کی پو ری ز ند گی کا خلا صہ دو لفظو ں میں بیان کیا ان کی سب سے بڑی خصو صیت کیا تھی ،نما ز کا ان کے نز دیک بہت اہتما م تھا اسما عیل علیہ السلا م اپنے گھر وا لو ں کو نما ز کا حکم دیا کر تے تھے او ر زکو ةکا حکم دیتے تھے و کا ن عند ربّہ مرضیّا او ر وہ اپنے رب کے نز دیک بڑے پسند ید ہ تھے:اسی طر ح اس سلسلے کی سب سے آ خر ی کڑی او ر سب کے خلا صہ ،سب سے مقد س گلِ سر سیّد سید نا محمد رسو ل اللہﷺ جو حضر ت ابرا ہیم علیہ السلا م کی او لاد میں سے ہیں خا تم النبیّن ہیں،آپ کی تو پو ری ز ند گی ہی نما ز قا ئم کر نے میں گز ری ہے او ر آپ فر تے ہیں جعلت قر ةعینی فی الصلو ة میر ی آنکھو ں کی ٹھنڈ ک نما ز میں رکھی گئی ہے و فا ت سے کچھ پہلے جو آخری وصیّت آ پ نے فر ما ئی ہے کیا فر ما ئی ہے؟ الصلوة الصلوة وما ملکت ایما نکم لو گو :نما ز کا خیا ل رکھنا ،نما ز کا خیا ل رکھنا اور اپنے غلام باندیو ں کے سا تھ اچھا سلو ک کر نا سب سے آخری و صیّت جو سنی گئی ہے کا ن لگا کر آپ کے لب مبا رک سے وہ یہی وصیت ہے آج امّت کی ز ند گی سے نما ز نکلی ہو ئی ہے اگر ہمیں محبت ہے اللہ کے رسو ل ﷺسے تو جس چیز میںآ پ کی آنکھو ں کی ٹھنڈ ک ہے اس کوہم اپنا ئیں کو ئی مسلما ن ،کو ئی نو جو ا ن بے نمازی نہ ر ہے اسی طرح ہما ری شکل و صو رت ،ہما را چہرہ ،ہما را لبا س رسو ل اللہ ﷺ،صحا بہ کر ا م اور امت کے نیک لو گو ں کے جیساہو ہم دیکھکر پہچا نے جائیں کہ ہم اللہ کے نبیﷺکا کلمہ پڑ ھنے وا لے ہیں خد ا نخو استہ کو ئی حا دثہ ہو جا ئے تو پتلو ن اتا ر کر نہ شنا خت کر نی پڑ ے کہ ہم مسلما ن ہیں کہ غیر مسلم ہما را چہرہ بتلائے،ہما را لبا س بتلا ئے ، ہما ری شکل و صو رت بتلا ئے:بعض قو میں ہیں سر کا ری عہد و ں پر پہنچ جا ئیں ،جر نیل ہو جا ئیں،کر نیل ہو جا ئیں،و ز یر اعظم ہوجائیں لیکن ان کی پگڑ ی نہیں اتر تی ،داڑ ھی نہیں اتر تی انھو ں نے اپنے شعا ر کو اس طر ح دانتو ں سے پکڑ رکھا ہے:مسلمان ہی ہیں کہ جنہو ں نے بید ردی کے ساتھ رسو ل اللہﷺکی سنت کو اپنے چہرے سے اڑا دیا ہے اور شکل و صو رت میں مغر بی تہذ یب کی اقتداکو اپنے لئے با عثِ فخر سمجھ رکھا ہے اگر ہمیں محبت ہے رسول اللہ ﷺسے اور انبیا ء علیہم الصلو ة و السلا م سے ،حضر ت ابرا ہیم و حضر ت اسما عیل علیہما الصلوة والسلا م کی سنت کو اپنی زند گی میں زند ہ کر نا چا ہتے ہیں توپھر صرف بقر عید کی قر با نی کر نے سے وہ سنت ادا نہیں ہو گی جو ان کی آنکھو ں کی ٹھنڈ ک تھی جس کے لئے حضر ت ابرا ہیم علیہ السلام نے قر با نی دی تھی اور اسما عیل علیہ السلام کا خا ص عمل بتلا گیااور جس میں رسو ل اللہﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈ ک ہے یعنی نما ز اس کو بھی ہم اپنا ئیں:اپنے اخلا ق کو در ست کر یں ہما ری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اعلی در جہ تو یہ ہے کہ ہم سب کے لئے سا یہ دار در خت بنیں،پھل دار در خت بنیں ہم سے دو سر و ں کو نفع پہنچے لیکن یہ نہیں کر سکتے تو کم سے کم در جہ یہ ہے کہ ہما ری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،رشتہ داروں کاخیا ل رکھیں،پڑ و سیو ں کا خیا ل رکھیں:علم دین سے ہر بچے کو آراستہ کر یں گو یا کلمہ پڑ ھنے کے لا ئن سے ہما ری جو ذمہ دا ر ی بنتی ہے اس کو پو را کر نے کی کو شش کر یں : اللہ تعا لیٰ ہم سب کو عمل کر نے کی تو فیق بخشیں۔
و آخر دعو انا ان الحمدلله رب العٰلمین

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔