بڑے مولانا: حضرت مولانا عبد الحلیم جون پوری رحمۃ اللہ علیہ

بسم اللّه الرحمن الرحيم

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

آكسفورڈ

جب سے ہوش سنبهالا كان كو”بڑے مولانا” سے مانوس پايا، يه لفظ گهر ميں بار بار سنتا تها، اور جب بهى بڑے بوڑهے يه نام ليتے ان كے انداز سے عقيدت ومحبت جهلكتى، عمر كے ساته ساته بڑے مولانا كا تقدس دل ميں جا گزيں ہوتا گيا، بعد ميں معلوم ہوا كه اس سے مراد حضرت مولانا عبد الحليم صاحب رحمة الله عليه كى ذات گرامى تهى، آپ ہمارے علاقه كے سب سے زياده موقر عالم وبزرگ تهے، اور صحيح معنوں ميں آپ ہى اس لقب كے حقدار تهے۔

آپ شاه وصى الله فتحپورى كے خليفه تهے، شاه صاحب كى نسبت تنہا احترام و تعظيم كى ضامن تهى، اس پر مستزاد يه كه آپ كئى اور صفات و كمالات كے جامع تهے ، آپ ايك عالم با عمل تهے، صالح وبزرگ تهے، مدرسۂ ضياء العلوم مانى كلاں كے بانى اور ناظم تهے، داعى ومصلح تهے، جہاں بهى بلائے جاتے وہاں جاكر وعظ كہتے اور عوام الناس كى اصلاح كرتے اور انہيں توحيد وسنت كى دعوت ديتے، ہر جمعرات كو ظہر كى نماز كے بعد ضياء العلوم كے ايك بڑے ہال ميں آپ كا وعظ ہوتا، جس ميں آس پاس گاؤں كے لوگ شوق سے شريك ہوتے، ميں بمشكل چهه سات سال كا تها كه اپنے والد صاحب كے ساته اس مجلس ميں شريك ہونے لگا تها، ايك بار والد صاحب گهر سے پانى كى ايك بوتل ليكر بڑے مولانا كے پاس گئے اور ان سے گزارش كى كه ميرے لئے دعا كريں اور اس پانى ميں دم كرديں، چنانچه آپ نے دعا كى اور پانى ميں دم كيا، اور ميں روزانه وه پانى تهوڑا تهوڑا پيتا تها، گويا وه انفاس پاك ميرے جسم كا حصه بن گئے۔

آپ كا پورا نام مولانا عبد الحليم بن محمد شفيع خان ہے، اصلا فيض آباد كے رہنے والے تهے، پهر ضلع جونپور ميں آكر بس گئے اور يہيں كے ہوكر ره گئے، فيض آباد كے تعلق كى وجه سے ضياء العلوم ميں وہاں كے اساتذه وطلبه كى بڑى تعداد تهى۔

پيدائش ٹانڈه ضلع فيض آباد ميں سنه 1327 ہجرى ميں ہوئى، ابتدائى تعليم گاؤں ميں حاصل كى، بعد ازاں مظاہر العلوم سہارنپور ميں داخله ليا، آپ كے اساتذه ميں مولانا عبد اللطيف برقاضوى، مولانا محمد زكريا كاندهلوى، مولانا عبد الرحمن كاملپورى، مولانا اسعد الله رامپورى، مولانا منظور احمد خان سهارنپورى وغيره رحمة الله عليہم تهے، آپ نے اسى عظيم مركز علم وفن سے سنه 1347 ہجرى ميں فراغت حاصل كى۔

اس كے بعد شاه وصى الله فتحپورى ثم اله آبادى رحمة الله عليه بيعت ہوئے، سلوك وعرفان كے منازل طے كئے اور اجازت وخلافت حاصل كى، شاه صاحب كے وصال كے بعد شيخ الحديث مولانا محمد زكريا كاندهلوى رحمة الله عليه كے دامن سے وابسته ہوئے اور انہوں نے بهى اجازت وخلافت مرحمت كى۔

شاه صاحب كے مشوره سے مانى ميں تدريس شروع كى، اور پهر يہيں سنه 1355ه ميں مدرسه ضياء العلوم قائم كيا، جلد ہى يه مدرسه شہرت كى بلنديوں پر پہنچ گيا، اور تعليم وتربيت كے ميدان ميں معيارى مدرسوں ميں اس كا شمار ہونے لگا، يہاں كے اساتذه اپنے اپنے علوم وفنون كے ماہر تهے، اور طلبه كے اندر تحصيل علم كى عجيب وغريب تڑپ تهى، شيخ الحديث حضرت مولانا محمد يونس جونپورى يہيں كے پرورده تهے، ميں نے يہاں دو سال فارسى اور ايك سال عربى پڑهى، يه ضياء العلوم ہى كى دين ہے كه ميں جہاں بهى گيا كبهى فارسى دانوں كے سامنے شرمنده نہيں ہوا، بلكه آكسفورڈ وغيره ميں بہت سى فارسى كے اساتذه نے مجه سے مدد لى، اسى طرح ميں نے يہاں صرف ونحو كى جو تعليم حاصل كى اس نے ان دونوں فنون سے ميرا رشته غير معمولى طو پر ہميشه كے لئے استوار كرديا۔

سنه 1393ہجرى ميں آپ نے مدرسه رياض العلوم گورينى قائم كيا، اس اداره نے بهى برق رفتارى سے ترقى كى، اور اس علاقه كے سب سے بڑے مدرسه كى حيثيت سے معروف ہو گيا ، اس وقت اس كے ناظم آپ كے صاحبزاده استاد گرامى مولانا عبد الرحيم صاحب مد ظله العالى ہيں، مدرسه سے پہلے يه گاؤں كيا تها اور بعد ميں كيا ہو گيا، اسے ديكهكر سمجه ميں آتا ہے كه جنگل ميں منگل ہونا كسے كہتے ہيں، جو جگه كل تك ويران تهى اب وه علماء وصالحين كى قابل احترام بستى ہوگئى ہے، اور يه سب بركت ہے اس بنجر زمين ميں آپ كے با فيض قيام كى:

ہر كجا چشمۂ بود شيريں

مردم ومور ومرغ گرد آيند

آپ كى علمى استعداد بہت پخته تهى، مختلف علوم وفنون ميں آپ كو رسوخ تها، ہميشه تدريس سے اشتغال ركها، آخرى عمر ميں اس ميں كمى آگئى تهى، پهر بهى پيرانه سالى وضعف كے باوجود كوئى نه كوئى كتاب ضرور پڑهاتے، آپ كے شاگردوں ميں شيخ محترم مولانا محمد يونس جونپورى تهے، جو ہميشه آپ كا ذكر محبت واحترام سے كرتے تهے، اسى طرح استاد محترم مولانا عبد العلى صاحب نے بهى آپ سے تعليم حاصل كى تهى، آپ كے يه دونوں شاگرد علم كے پہاڑ تهے، ان كے علاوه بهى ہونہار شاگردوں كى ايك لمبى فہرست ہے۔

تدريس كے ساته ارشاد وتسليك كا سلسله بهى جارى ركها، علاقه كے لوگ كثرت سے آپ سے بيعت ہوئے، اور جن لوگوں نے عام استفاده كيا وه شمار سے باہر ہيں، بعد ميں بمبئى كے لوگ بهى آپ كى طرف متوجه ہوئے، اور وہاں كى ايك بڑى تعداد نے آپ سے بيعت كى، آپ كبهى كبهى وہاں جاكر قيام بهى كرتے تهے، ميں نے بهى سہاگ پيلس ميں كئى بار آپ كى مجلسوں ميں شركت كى اور استفاده كيا۔

آپ كا وعظ بہت مشہور تها، سكون سے بات كہتے، ہر جمله واضح ہوتا، درميان ميں سامعين سے سوالات بهى كرتے، اس طرح ان كى دلچسپى قائم رہتى، آپ كے وعظ كى اہم خصوصيت يه تهى كه سارا مواد قرآن كريم اور حديث شريف سے ماخوذ ہوتا تها، نه قصے ہوتے اور نه كہانياں، نه كرامتوں كا تذكره ہوتا اور نه خوارق كا، يعنى آپ كے وعظ ميں كوئى تفريحى پہلو نہيں تها، جو لوگ اس طرح كے چٹخاروں كے عادى ہيں ان كو يہاں مزه نه ملتا، پر طلب صادق ركهنے والے آپ كے عاشق تهے، اور آپ كى ہدايتيں ان كے دلوں ميں جگه بنا ليتيں:

ادهر كہتا گيا وه اور ادهر آتا گيا دل ميں

اثر يه ہو نہيں سكتا كبهى دعوائے باطل ميں

آخرى عمر ميں تبليغى جماعت سے تعلق بڑه گيا تها، خود جماعت ميں نكلتے، دوسروں كو نكالتے، مدرسه ميں اور دوسرى جگہوں پر تبليغى اجتماعات كرواتے، نظام الدين تشريف لے جاتے اور وہاں كے بزرگ آپ سے مستفيد ہوتے، آپ كى وجه سے تبليغ كى تحريك كو بڑى تقويت ملى۔

آپ پر توحيد وسنت كا غلبه تها، توحيد كى دعوت ديتے اور شرك كے خطرات پر متنبه فرماتے، ايك مرتبه گورينى ميں آپ كے حجره ميں آپ كے پاس بيٹها ہوا تها كه ايك صاحب آئے اور انہوں نے آسيب وغيره كى شكايت كى اور آپ سے دعا كى درخواست كى، آپ نے دعا كردى، اور بعد ميں مجه سے فرمانے لگے كه اس قدر ضعيف الاعتقادى ہے،يه نہيں سوچتے كه ان چيزوں كا ماننا شرك ہے۔

سنت پر سختى سے عمل پيرا تهے اور دوسروں كو بهى اس كى ترغيب كرتے، اس سلسله ميں آپ كو حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئى سے مناسبت تهى، آپ كے بعض مواعظ مجهے اب تك ياد ہيں جو دين خالص كى تعليم پر مشتمل ہوتے، ايك بار حديث جبريل كى تشريح شروع كى، اور كئى روز تك آپ كا درس اسى حديث كے متعلق ہوتا رہا، ايك ايك بات اچهى طرح سمجهاتے، اور حقائق ومعانى كو دلوں ميں اتارنے كى كوشش كرتے، اس طرح كى پر مغز بات كہنے والے دنيا ميں بہت كم ہيں، وعظ گوئى زياده تر ايك تماشا ہے، جس كى قدر تماشا بينوں كى تعداد سے طے كى جاتى ہے، اسى لئے واعظين ہنستے ہنساتے ہيں، روتے رلاتے ہيں، لطيفے اور چٹكلے سناتے ہيں، گانا گاتے ہيں، ہر قسم كى آوازيں نكالتے ہيں، راگ الاپتے ہيں، اور ان بيہوده حركتوں كى مادى قيمت وصول كرتے ہيں، ہائے كه وعظ ونصيحت كى آبرو گئى! ان مجلسوں ميں نه كوئى توبه كرتا ہے، اور نه كوئى زندگى بدلنے كا عہد كرتا ہے۔

آپ عبادت گزار تهے اور رياضت ومجاہده كے خو گر، ہميشه مدرسه كى مسجد ميں اعتكاف كرتے، كبهى كبهى يه اعتكاف پورے مہينه كا ہوتا، ميں نے بهى كئى بار آپ كے ساته اعتكاف كيا ہے، كيا روح پرور منظر ہوتا، اسى منظر كى كشش مجهے وہاں ليجاتى، گرميوں كے رمضان ميں افطارى كے بعد ہم لوگ بيدم ہو جاتے، فرش پر ليٹ جاتے، مگر مولانا كا رمضان كچه اور ہوتا، مغرب كے بعد نفل ميں ايك يا سوا پاره قرآن سننے كا اہتمام فرماتے، تراويح كى نماز تقريبا دو گهنٹے ہوتى، پورى تراويح پڑهتے، تراويح كے بعد مختصر مجلس ہوتى، تهوڑا سا آرام كرتے، پهر تہجد كى نماز دير تك پڑهتے، ذكر وفكر ميں مشغول رہتے، اور دن ميں بهى نفل اور تلاوت كا اہتمام رہتا، اور حديث وتصوف كى كتابوں كا مطالعه كرتے، غرض چوبيس گهنٹے ميں سونے اور آرام كرنے كا وقت بہت كم ہوتا۔

اس بزرگى اور شہرت كے باوجود عام علماء وصالحين كا احترام كرتے، اپنے شيخ شاه وصى الله فتحپورى كے انتقال كے بعد شيخ الحديث مولانا محمد زكريا كاندهلوى سے ربط ركها، ان سے مشوره كرتے، ان كے علاوه مولانا ابرار الحق صاحب، مولانا انعام الحسن صاحب اور حضرت مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمہم الله سے بهى قربت ركهتے۔

آپ وجيه، كشيده قامت، سرخ وسفيد تهے، حد درجه پاك باطن، نيك طينت، صاف دل، متواضع اور با اخلاق ، كيا سادگى كى شان تهى، تكلف سے برى تهے، ديہات كے مدرسه ميں ديہاتيوں كے ساته نباه كرنا آسان نہيں، ليكن آپ نے عوام كى بد اخلاقيوں كے باوجود ان كى نفع رسانى ميں كوئى دقيقه فروگزاشت نہيں كيا، تربيت واصلاح كا كام عبادت سمجهكر كرتے اور كبهى كوئى حرف شكايت زبان پر نه لاتے، آپ كے دو اوصاف خاص طور سے ہم سب كے لئے نمونه ہيں: 1- عزم وحوصله اور محنت، اسى كا نتيجه ہے كه بے سر وسامانى كے باوجود دو ادارے اس طرح قائم كئے كه جہاں كچه نہيں تها وہاں علم وہنر كا بازار گرم ہوا، اور رشد وہدايت ہنگامه بپا ہوا، يه وه ہمت ہے جو جوانوں كو بلكه ہمت وروں اور حوصله مندوں كو شرمائے، 2- زاہدانه مزاج، اس كى فكر نہيں تهى كه گهر كے لوگوں كى معاشى ضروريات كا انتظام كيا ہوگا؟ اولاد كا مستقبل كيا ہوگا؟ ميں جب ضياء العلوم ميں پڑهتا تها تو بہت چهوٹا تها اوردو ايك بار آپ كے گهر كے اندر بهى جانے كا اتفاق ہوا، معمولى مكان، ساده طرز رہائش ، افسوس كه ہم علماء جن بزرگوں پر فخر كرتے ہيں سب سے زياده ہم ہى ان كى سنتوں سے منحرف ہيں، اس زہد كى جگه دنيا كى محبت اس قدر دلوں ميں سما گئى ہے كه ہم نے دين كے تمام شعبے نجس كر ڈالے ہيں، اور اس پر ہم ملت كى ترقى كا ترانه پڑهتے نہيں تهكتے، وائے تمنائے خام! وائے باطن پر از ظلام!

عمر كا بيشتر حصه تعليم وتربيت اور اصلاح وتبليغ ميں گزارنے كے بعد كنعان جونپور كے يوسف ذى تقوى وصبر اور ديار شرق كے فخر ووقار نے 10 محرم سنه 1420 ہجرى كو جان جان آفريں كے سپرد كردى، آپ كى اولاد ميں الله تعالى نے وه بركت دى جسے خاندان يعقوب كا پرتو كہا جا سكتا ہے، آپ كے بيٹوں، پوتوں، پوتيوں، نواسوں، نواسيوں اور ان كى اولاد ميں ان گنت علماء وحفاظ وصالحين ہيں، قابل رشك ہے آپ كى ذريت با بركات وخيرات، الله تعالى آپ كى قبر پر رحمت كے پهول برسائے، سچى بات يه ہے كه آپ كا مزار كوئى قطعۂ ارضى نہيں، بلكه آپ كے تلامذه ومستفيضيں كے قلوب وارواح ميں ہے:

بعد از وفات تربت ما در زميں مجو

در سينه ہائے مردم عارف مزار ما ست

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔