مغربی یوروپی ممالک کی حکومتیں سیکولر کیوں ہوتی ہیں؟

ریاض فردوسی۔9968012976

یورپین ممالک زیادہ تر صلیبی ممالک ہیں موجودہ عیسائی مذہب میں شریعت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔تاہم عیسائی مذہب کے قوانین اخلاقی تعلیم کا مجموعہ ضرور ہے، دراصل عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے بعد عیسائی مذہب کے تبلیغ کی ذمہ داری انکے حواریوں پر تھی ۔یہ مبلغین یروشلم شہر اور اس کے گرد و پیش میں یہودیوں کے درمیان تبلیغ کیا کرتے تھے ۔جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے عیسائی مذہب کو قبول کیا، ان مبلغین میں سے فلپ نامی مبلغ افریقہ براعظم کے ایتھوپیا شہر میں جاکر عیسائی مذہب کو پھیلایا، اس کے علاوہ یہ مبلغین دیگر عیسائی افراد کو ملک شام کے شہر انطاکیہ میں بھی دین کی دعوت کے لیے بھیجا، یہ مبلغین لوگوں کو عیسائی مذہب کے عقائد و نظر یات کے ساتھ ساتھ شریعت موسوی پر عمل کرنے کیلئے بھی پابند کرتے تھے، عہد نامہ جدید کے باب حواریوں کے اعمال میں ان مبلغین کے تبلیغ کا ذیادہ ذکر نہیں ملتا، لیکن اسی کتاب میں پال نام کے ایک مبلغ کے عیسایت کے تبلیغ کا ذکر بہت ہی کثرت سے آیا ہے، موجودہ عیسائی مذہب کا وجود اسی مبلغ کے تبلیغ کا نتیجہ ہے، گویا کہ موجودہ عیسائیوں کی اخلاقی خرابی کے لئے یہی شخص ذمے دار ہے۔اسی کوموجودہ عیسائیت کا اصل بانی بھی کہا جاتا ہے، وہ عیسیٰ علیہ السلام کا ڈایریکٹ حواری نہیں تھا ، مذہب تبدیلی سے پہلے وہ یہودی تھا اور اس کا نام ساول تھا اور عیسائی مذہب کے پیروکار پر ظلم و ستم کیا کرتا تھا اس کا دعویٰ تھاکہ ایک روز وہ جب دمشق کے راستے میں عیسائی مذہب کے ماننے والوں کو مار پیٹ رہا تھا اسی وقت اسے عیسیٰ علیہ السلام کا دیدار ہوا اور اسی دن سے وہ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا اور وہ ساول سے پال بن گیا۔
اپنے تبلیغ کے ابتدائی دور میں پال یہودیوں میں دین کی اشاعت کے لیے کام شروع کیا، لیکن اس میدان میں اسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس لیے اس نے غیر یہودیوں (Gentiles) میں جاکر عیسایت کے فروغ کا کام شروع کیا اور اسے اس میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ پال کے تبلیغ کی خاص بات یہ تھی کہ وہ لوگوں کو صرف اس بات پر ایمان لانے کی دعوت دیتا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دیا گیا، انہیں قبر میں دفنایا گیا اور تین روز بعد پھر وہ زندہ ہوگئے اور انکے حواریوں نے انکا دیدار کیا، اور پھر آسمان میں اٹھا لیے گئے، پال نے اپنے معتقدین سے کہا کے نجات کے لیے صرف عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھنا ہی کافی ہے، اسے شریعت موسوی کو ماننا لازم نہیں ہے۔ اسی لیے پال کو ملک شام اور موجودہ ترکی کے مختلف شہروں اور علاقوں میں یہودیوں کے مخالفت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ، اور اسکی شکایت یروشلم کے اکابرین کو کی گئی، اس کے بعد پال تنہا آزادانہ طور پر مقدونیہ، یونان، مالٹا اور بالآخر روم کے باشندوں میں جاکر تبلیغ کا کام کیا،اور وہیں اسکی موت ہو گئی، ایشیا اور یورپ میں عیسائت اسی سینٹ پال کا پھیلا یا ہوا ہے، جو شریعتی احکام سے خالی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے عیسائی توراة کے قانون کو نہیں مانتے ہیں۔ وہ صرف عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ، اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور تثلیث کے عقیدہ کے قائل ہیں، اور انکے صلیب دیے جانے اور انکے حیات ثانیہ کو مانتے ہیں ، یہی پہلی وجہ ہے کہ یورپین ممالک کے قانون شرعی قانون نہیں ہوتے ہیں، یا وہاں کے قانون کا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔
عہد وسطیٰ میں پوپ کا ادارہ بہت ہی غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا،پوپ رومن کیتھولک چرچ کا سربراہ تو تھا ہی، وہ شمالی اٹلی اور جنوبی اٹلی کے درمیان میں واقع علاقے جو apal states Pکہلاتے تھے وہاں کا حکمران بھی ہوتا تھا، آٹھویں صدی میں چرچ اور یورپی بادشاہوں کے درمیان دوستانہ تعلقات تھے، پوپ بادشاہوں کے تاجپوشی کے تقریب میں شامل ہوتے اور خود اپنے ہاتھوں سے بادشاہوں کو تاج پہناتے تھے مثلاََ، 752 ء میں Peppin the short اور اسکے انتقال کے بعد 771ء میں اسکے جانشین Charlemagne the Great کو پوپ نے تاج پہنایا۔
814ء میں Charlemagne کے انتقال سے لیکر د و سو سالوں تک کیتھولک بادشاہوں کا چرچ پر غلبہ رہا اس وقت پوپ کا انتخاب اورچرچ کے اہم عہدیداروں کا انتخاب بادشاہ ہی کیا کرتے تھے۔ ان بادشاہوں میں ایک خرابی یہ بھی تھی کی وہ چرچ کے عہدوں کو فروخت بھی کرتے تھے، اس خرابی کو Simony کہا جاتا تھا، علاوہ ازیں چرچ کے پادریوں کے لیے شادی کرنا بھی ممنوع تھا، لیکن اس کے بعد چرچ کی تاریخ میں ایک وقت ایسا آیا کہ چرچ کیتھولک بادشاہوں پر غالب ہو گیا ،جس کی مثال ہم مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں (Crusades) کے دوران دیکھتے ہیں، اس وقت پوپ کی پکار پر عوام تو عوام بادشاہ،امراء، اور شرفاء بھی یروشلم کو مسلمانوں کے قبضہ سے چھڑانے کے لئے صلیبی جنگوں میں شریک ہوتے تھے، چرچ کے ادارہ کو قوت بخشنے، اسے طاقتور، مضبوط اور مستحکم بنانے اور اسے ایک بین الاقوامی ادارہ بنانے کے لیے پوپ نے بہت سعی اور جد وجہد بھی کیا۔
اس جانب سب سے پہلا اہم قدم Pope Nicholas II نے اٹھایا، اس نے 1059ء میں ایک فرمان جاری کیا، جس کے تحت پوپ کا انتخاب بادشاہوں اور روم کے عوام کے ہاتھوں سے نکال کر Cardinals کے ہاتھوں منتقل کر دیا گیا، 1073ء میں Pope Gregory VII منتخب ہوا، اس نے اپنی کتاب Dictatus میں پوپ کے اختیارات اور حقوق کی ایک فہرست مرتب کی، اس نے بتایا کہ پوپ، بشپ کو برخاست اور بحال کر سکتا ہے، وہ بادشاہ کو بھی معزول کر سکتا ہے، وہ حکمرانوں کے فیصلوں کو رد کر سکتا ہے لیکن پوپ کے فیصلے کو کوئی بھی رد نہیں کر سکتا، کوئی بھی شخص پوپ کے اقدام پر تنقید نہیں کر سکتا، چرچ معصوم عن الخطا ہے، اس سے کبھی بھی غلطی نہیں ہوئی اور نہ ہی تمام ابد تک اس سے غلطی ہوگی۔
عہد وسطیٰ میں پوپ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ طاقتور ہو گئے تھے، پوپ لامحدود اختیارات حاصل کر چکے تھے، بادشاہ تو اپنے ملک کے عوام کے لیے قانون بناتے ،لیکن پوپ جو قانون بناتا ،اس سے سبھی لوگ متاثر ہوتے، پوپ کے پاس ایک بہت بڑا ہتھیار ( Excommunication) کا تھا جس کا وہ استعمال عوام ہی کے خلاف نہیں بلکہ بادشاہوں کے خلاف بھی کرتے تھے ۔جب وہ لوگ پوپ کی کسی حکم پر عمل نہیں کرتے اور اس کے اقدام کی مخالفت کرتے تو اسے عیسائی برادری سے باہر نکال دیا جاتا۔ جوبادشاہ پوپ کی اطاعت نہیں کرتا تو پوپ اس ملک کے سارے چرچ کو بند کروا دیتا اور اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولتا جب تک اسے دوبارہ کھولنے کا حکم نہیں دیا جاتا۔
عام لوگوں کے اندر پوپ کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ اگر اسے پوپ کی رحمت حاصل نہیں رہے گی تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا، لیکن کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ جہنم میں جائے اور اسے چرچ سے باہر کر دیا جائے عوام تو یہی چاہتی ہے کہ اس کے گناہ معاف کر دئے جائے اور وہ جنت میں جائے۔
عہد وسطیٰ میں پوپ!
پوپ بادشاہ کے امور مملکت میں بھی مداخلت کرتا تھا جو بادشاہوں کو پسند نہیں تھا، Pope Gregory VII فرانس کے راجہ فلپ اول کو خبر دار کیا کہ اگر اس نے Simony کے مروجہ طریقہ کو ترک نہیں کیا تو وہ Excommunicate کر دیا جائے گا، گریگوری نے انگلینڈ کے راجہ ولیم اول سے کہا کہ جس طرح سورج اور چاند میں سورج بڑا ہے اسی طرح پوپ کی طاقت بادشاہی طاقت سے زیادہ طاقتور ہے، لیکن اس بات کا ولیم پر کوئی اثر نہیں ہوا، اس نے اعلان کردیا کہ بغیر اس کی منظوری کہ انگلینڈ میں منتخب پوپ کو تسلیم نہیں کیا جائے اور نہ ہی پوپ کے خطوط ملک کے اندر حصول کئے جائے اور نہ ہی ملک کے باہر بھیجے جائیں، ولیم کے اس پرعزم مزاحمت کے آگے گریگوری ایک دم سے بے بس ہو گیا۔
1076ء میں جرمنی کے راجہ King Henry IV اور پوپ گریگوری ہفتم (Pope Gregory VII) کے درمیان Clergy کے تقرری کو لیکر جھگڑا شروع ہو گیا، ہنری پوپ کے مرضی کے خلاف بشپ اور کلرجی کا انتخاب کرتارہا ،پوپ ہنری کے اس سوع عمل پر اسے ڈانٹا اور پھٹکارا، غصہ میں آکر ہنری نے جرمنی کے تمام Bishops سے یہ اعلان کروا دیا کہ گریگوری ان لوگوں کا پوپ نہیں رہا، اس کے ردعمل میں پوپ نے ہنری کو Excommunicate کر دیا اور اور اسے معزول کرنے کا فیصلہ کیا، معزولی کے ڈر سے شہنشاہ ہنری جرمنی سے روانہ ہوا اور شمالی اٹلی کے Canosa محل کے باہر دروازہ پر تین دنوں تک ایک فقیر کے مانند کھڑا رہا تاکہ اسے معافی مل جائے۔ 1077 ء میں ہنری کو چرچ واپسی کی اجازت مل گئی، تین سال بعد 1080ء میں ہنری کو Excommunicate کر دیا گیا، 1084 ء میں ہنری نے اٹلی پر حملہ کیا اور اسے فتح کیا اور Clement III کو گریگوری کے مقام پر پوپ منتخب کیا ، 1085ء میں گریگوری کو روم سے جلاوطن کر دیا اور جلاوطنی میں ہی اسکا انتقال بھی ہو گیا۔ مرتے وقت اسکے الفاظ تھے: ” مجھے عدل سے محبت اور ظلم سے نفرت تھی، اس لیے میں جلاوطنی میں مر رہا ہوں”
بارہویں صدی کے آخر میں جرمن شہنشاہوں میں ایک نامور شہنشاہ فریڈرک اول (Frederick I) تھا جو اپنی لال رنگ کی ڈارھی کی وجہ سے فریڈرک بارباروسا (Frederick Barabarrosa) کے نام سے جانا جاتا تھا، شمالی اٹلی میں ناکامی کے بعد اس کی خواہش ہوئی کے کسی طرح جنوبی اٹلی میں اسکا سیاسی اقتدار قائم ہو، اس خواہش کی تکمیل کے لیے اس نے اپنے بیٹے Henry کی شادی Sicily اور Naples کی شہزادی Constance سے کرنا چاہا، لیکن Pope Celestine جو ان علاقوں کا جاگیردار تھا اس کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ فریڈرک کا ان علاقوں میں بلواسطہ بالادستی قائم ہو اور اس نے اس کی پرزور مخالفت کی، لیکن جب Frederick II جو ہنری اور کانسٹینس کا لڑکا تھا 1211ء میں جرمنی کا شہنشاہ مقرر ہونے والا تھا تو اسنے پوپ Innocent III سے وعدہ کیا کہ شہنشاہ بننے کے بعد وہ جنوبی اٹلی سے دستبردار ہو جائے گا، لیکن فریڈرک اپنے قول سے پھر گیا، جس کے باعث اسے Excommunicate کر دیاگیا اور 1245ء میں Pope Innocent IV نے اسے معزول کر دیا۔
ان دنوں چرچ میں بدعنوانی بہت زوروں سے پھیل گئی تھی، پیسے دیکر یا دباؤ ڈال کر پسندیدہ پوپ کا انتخاب کروا لیا جاتا تھا، اس لیے ایک بادشاہ کے لیے یہ آسان ہو گیا تھا کہ وہ اپنے پسندیدہ پوپ کا انتخاب کروا لیتا ،1286ء میں فرانس کے راجا Philip IV کو ملک کی بھاری قرض سے نپٹنے کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑی، اس نے 1303ء میں پوپ کے حکم کے خلاف اپنے ملک کے تمام چرچ پراپرٹی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا، پوپ Boniface VIII نے فلپ کو Excommunicate کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس سے پہلے اسے گرفتار کر لیا گیا اور اسکے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی اور پھر ایک ماہ بعد وہ انتقال کر گیا، اسکے بعد پوپ Benedict XI ایک سال تک اپنے عہدے پر رہا اسے زہر دے کر مار دیا گیا، 1305ء میں فلپ چہارم نے فرانسیسی Clement V کو پوپ بنوایا،اس نے پوپ کے رہائشی گاہ کو روم سے فرانس کے شہر Avignon منتقل کردیا اس کے بعد سات پوپ متواتر منتخب ہوئے اور وہ سب کے سب فرانسیسی تھے۔
13ویں صدیوں تک پوپ بھی بادشاہوں کی طرح اپنے اختیارات کا سوع استعمال کرتا رہا، سولہویں صدی میں ایسا ہی ایک پوپ Leo X تھا جو عوام کو پروانہ نجات (Papal Indulgences) فروخت کرتا تھا، اگر کوئی آدمی اپنے گناہوں کو معاف کر وانا چاہتا تو وہ چرچ سے انڈلجنس خرید لیتا ،جس کے معنی یہ ہوا کہ وہ پیسے دیکر خدا سے معافی نامہ خرید لیا۔
1517 ء میں جرمنی کے ماڑٹن لوتھر (Martin Luther) نے چرچ کے انڈلجنس کے فروخت پر اعتراض جتایا اور کہا کے کوئی بھی پیسہ دیکر معافی نہیں خرید سکتا، اسکے باعث اسے Excommunicate کر دیا گیا، پوپ کے اس بدعنوانی کے مخالفت میں مسیحیت کی ایک نئی شکل وجود پزیر ہوئی، اس کے ماننے والے Protestant کہلانے لگے اور اس تحریک کا نامReformation پڑا جسکا ہدف چرچ کے بدنظمی اور بدعنوانی کا اصلاح کرنا تھا، اسی دوران انگلستان کا راجہ ہنری ہشتم (Henry VIII) تھا، اسکی شادی اسپین کے کی ملکہ Catherine Aragon سے ہوئی تھی، ان دونوں سے صرف ایک بیٹی تھی ،اسے بیٹا نہیں تھا، ہنری چاہتا تھا کہ اسے ایک بیٹا ہو جو اس کے مرنے کے بعد اس کا جانشین بنے، وہ اپنی بیوی کو چھوڑ نا چاہتا تھا اور ایک کنواری لڑکی سے بیاہ کرنا چاہتا تھا جو اسے بیٹا دے سکے ، لیکن ان دنوں راجہ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا تھا راجہ اور رانی کی شادی زندگی بھر کے لئے ہوتی تھی، 1537 ء میں ہنری نے ایک لڑکی Anne Boleyn سے خفیہ شادی کر لی ۔پوپ نے اسے بھی Excommunicate کر دیا ۔اس پر ہنری خود ہی انگلستان کے چرچ کا سربراہ بن گیا، چرچ کی زمین بیچ دی گی، قریب آٹھ سو خانقاہوں کو بند کروا دیا گیا اور چرچ کی دولت ضبط کر لی گئی، ریفارمیشن کے وجہ سے پوپ کی طاقت اس وقت سے لیکر آج تک کمزور ہو گئی اور جب 1870ء میں Unification of Italy ہوا اورPapal states مفتوح ہو گئے اور اب ایک روحانی شخصیت بن کر رہ گیا ، اس کا اب سارا کام صرف مذہبی امور سے متعلق رہا اور وہ سیاسی امور میں مداخلت سے پیچھے ہٹ گیا اس طرح کم و بیش ہزار سال سے چل رہی چرچ اور ریاست کے مابین تصادم اختتام کو پہونچا، مذہب اور سیاست علیحدہ ہو گئے، تو یہ تھی دوسری وجہ کے ریاست کے قانون میں مذہب کو کوئی جگہ نہیں دی گئی۔

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔